فرانس میں سکولوں میں پولیس تعینات: بیگوں کی وقتاً فوقتاً تلاشی لیں گے
حالیہ عرصے میں ملک میں چاقو کے حملے بڑی تعداد میں رونما ہوئے ہیں
فرانس کے وزیرِ تعلیم نے جمعہ کو کہا ہے کہ ملک میں پرتشدد حملوں میں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے سکولوں میں اور ان کے اردگرد فرانسیسی پولیس تعینات کی جائے گی جو وقتاً فوقتاً سکول بیگوں میں چھپائے گئے چاقو اور دیگر ہتھیاروں کے لیے تلاشی شروع کرے گی۔
وزیرِ تعلیم ایلزبتھ بورن نے بی ایف ایم ٹی وی/آر ایم سی براڈکاسٹر کو بتایا کہ موقع پر تلاشی موسمِ بہار میں شروع ہو گی۔
انہوں نے کہا، "میں چاہتی ہوں کہ ہم پراسیکیوٹر اور تعلیمی نظام کے نمائندے کے ساتھ مل کر سکولوں کے داخلی راستوں پر بیگ کی باقاعدہ تلاشی کا انتظام کریں۔"
انہوں نے کہا، یہ کام پولیس کرے گی کیونکہ اساتذہ اور سکول کا عملہ طلباء کی تلاشی لینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ نئی پالیسی اس وجہ سے نافذ کی گئی ہے کیونکہ چاقو کے حملے "زیادہ عام" ہو گئے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ وہ ایک اصول میں تبدیلی کی بھی کوشش کریں گی جس کے تحت سکول میں کسی طالبِ علم سے بلیڈ والا ہتھیار برآمد ہونے کی صورت میں اسے خود بخود انضباطی کونسل کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ اس طرح کے کسی بھی معاملہ کی بغیر کسی استثناء کے استغاثہ کو بھی اطلاع پہنچ جائے گی۔
فی الحال ایسا طریقہ کار سکولوں کے سربراہان کی صوابدید پر ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں پیرس کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے میں ہائی سکول کا ایک 17 سالہ طالب علم چاقو کے وار سے شدید زخمی ہو گیا تھا۔
دارالحکومت کے شمال میں واقع ایک خطے سین-سینٹ ڈینس میں جرائم کی شرح اوسط سے زیادہ ہے۔ وہاں اس ماہ تقریباً 20 مڈل اور ہائی سکولوں کو پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے جہاں تقریباً 100 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
حکام نے بتایا کہ سلسلہ وار واقعات کے بعد یہ اقدام "پرتشدد کارروائیوں کے اعادہ کو روکنے" میں مدد کے لیے تھا۔