کردستان ورکرز پارٹی نے اپنے مقید رہنما عبداللہ اوکلان کی جانب سے ہتھیار پھینک دینے کے مطالبے پر ردعمل جاری کر دیا۔
پی کے کے کے بیان کے مطابق ’قائد اپو (اوجلان) کے امن اور جمہوری معاشرے کے قیام کی اپیل پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنے کے لیے، ہم آج سے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔‘
بیان میں ایگزیکیٹو کمیٹی نے مزید کہا: ’ہم اس اپیل کے تمام نکات سے متفق ہیں اور ہم اس پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔‘
اوکلان کی رہائی
کرد پارٹی نے امید ظاہر کی کہ انقرہ حکومت 1999 سے قید اوکلان کو رہا کر دے گی تاکہ وہ پارٹی کے ہتھیار پھینکنے کے عمل کی سرپرستی کر سکیں۔
پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی اور جمہوری شرائط طے کرنا بھی لازمی ہے۔
پی کے کے کو ترکیہ، امریکہ، اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ یہ تنظیم 1984 سے مسلح بغاوت کر رہی تھی، جس کا مقصد ترکیہ میں کردوں کے لیے ایک الگ ریاست کا قیام تھا۔
کرد آبادی ترکی کی آٹھ کروڑ 50 لاکھ مجموعی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہے۔
1999 میں اوجلان کی گرفتاری کے بعد کئی بار اس تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں، جس کے باعث 40 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
2015 میں آخری امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کسی بھی قسم کی بات چیت بند ہو گئی تھی۔