امریکہ کی جانب سے حوثی قیادت دوبارہ دہشت گرد قرار، پابندیاں عائد

ایک حوثی کارندے پر روس کے لیے لڑنے کی غرض سے یمنی شہریوں کو بھرتی کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ نے بدھ کے روز سات حوثی رہنماؤں اور ایک فرد پر پابندی عائد کر دی جس نے یمنی شہریوں کو یوکرین میں روس کے لیے لڑنے کی غرض سے بھیجا تھا۔ اس سے ایک دن قبل امریکہ نے یمنی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گرد نامزد کر دیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، "ان افراد نے یمنی حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں فوجی درجے کی اشیاء اور ہتھیاروں کا نظام سمگل کیا اور روس سے حوثیوں کے لیے ہتھیاروں کے حصول کے بارے میں بات کی۔"

محکمہ خزانہ نے عبدالولی عبدو حسن الجابری اور ان کی الجابری جنرل ٹریڈنگ اینڈ انویسٹمنٹ کمپنی کو روس کی جانب سے یوکرین میں لڑنے کے لیے یمنیوں کو بھرتی کرنے اور حوثی فوجی کارروائیوں میں مدد کے لیے رقم جمع کرنے پر بھی نامزد کیا۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک بیان میں کہا، "امریکی حکومت حوثیوں سے جواب طلبی کے لیے پرعزم ہے جنہوں نے بحیرۂ احمر کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے روس، چین اور ایران کے فراہم کنندگان سے ہتھیار اور اسلحے کے اجزاء حاصل کیے۔"

انہوں نے کہا، "ہم حوثیوں کے تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع کا استعمال اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ مل کر حوثیوں کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گے۔"

حوثیوں کا دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ ہے اور اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے انہوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری کے آخر میں حوثیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی او) کی فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے جیسا انھوں نے انھیں اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران کیا تھا۔

دوبارہ نامزدگی کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی حوثیوں کے ساتھ مشغولیت یا کوئی کام کرے گا جن کے زیرِ قبضہ علاقہ یمن کی زیادہ تر آبادی کا گھر ہے تو امریکہ کی طرف سے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا خدشہ ہو گا۔

سابق صدر جو بائیڈن نے حوثیوں کو اس فہرست سے نکال دیا تھا جب انسانی ہمدردی کے گروپوں نے احتجاج کیا کہ وہ ملیشیا سے نمٹے بغیر یمن کے ضرورت مندوں کو امداد نہیں پہنچا سکتے تھے۔

ایک عشرہ قبل جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی جزیرہ نما عرب کا غریب ترین ملک یمن اب دنیا کے ایک بدترین انسانی بحران کا شکار ہے اور اس کے 34 ملین افراد میں سے تقریباً دو تہائی کو بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں