ٹرمپ کی تنبیہ کا مذاق نہ اڑایا جائے ، امریکی وزیر خارجہ کی حماس کو نصیحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حماس تنظیم کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کا مذاق نہ اڑائے۔
روبیو کے مطابق جو کچھ ہو رہا ہے اس پر ٹرمپ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، حماس پر لازم ہے کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کے حوالے سے ٹرمپ کے مطالبات کا فوری مثبت جواب دے۔

روبیو نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے یرغمالیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کافی جگہ اور وقت فراہم کیا، اب وقت آ گیا ہے کہ اس بحران کو ختم کیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق حماس کو ٹرمپ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ وہ اسی وقت کچھ کہتے ہیں جب کسی چیز کے حوالے سے سنجیدہ ہوں۔ روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ حماس سب کچھ ویسا ہی کرے گی جیسا ٹرمپ نے اس سے مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے حماس کی قیادت کو خبردار کیا تھا۔ انھوں نے قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ سے کوچ کر جائے اور تمام زندہ اور مردہ اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کر دے۔ امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر تمام قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو غزہ کی پٹی کے لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے باور کرایا کہ وہ ہر چیز اسرائیل بھیج دیں گے جس کی اسے یہ معاملہ ختم کرنے کےلیے ضرورت ہو گی۔

ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے غزہ کی پٹی کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ایک خوب صورت مستقبل آپ کا منتظر ہے تاہم اگر آپ نے یرغمالیوں کو اپنے پاس رکھا تو ایسا نہ ہو گا"۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز کو باور کرایا کہ صدر ٹرمپ بیرون ملک ظالمانہ طور پر زیر حراست یا گرفتار شدگان تمام امریکیوں کو وطن واپس لانا چاہتے ہیں۔ ان میں غزہ میں حماس کے قبضے میں موجود امریکی اور دیگر افراد بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق ان افراد کی وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار "يديعوت احرونوت" نے حماس اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست بات چیت کی نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ تفصیلات سے آگاہ ایک اسرائیلی ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ اس اقدام کا سرکاری مقصد امریکی نژاد اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کرانا ہے خواہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔
ذریعے نے بتایا کہ امریکیوں نے اس سلسلے میں عیدان الیگزینڈر کی رہائی کو سرفہرست رکھا ہے جو ایک امریکی شہری ہے۔ اسی طرح چار دیگر امریکی شہری بھی ہیں۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ یرغمالیوں کے معاملے سے متعلق خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر کی جانب سے کیے جانے والے رابطوں سے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق نیویارک میں اسرائیلی قونصل جنرل اویر اکونیس نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے حماس کے حوالے سے اپنا بنیادی موقف تبدیل کر دیا ہے۔ وہ اسرائیل پر دباؤ کے بدلے اب حماس کو زیر دباؤ رکھنے پر عمل پیرا ہے۔

اسرائیل یہ تصدیق کر چکا ہے کہ امریکا نے ایڈم بوہلر اور حماس کے درمیان براہ راست رابطوں کے حوالے سے تل ابیب کے ساتھ مشاورت کی تھی۔
ادھر امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے براہ راست مذاکرات میں حماس کو کوئی رعائت نہیں پیش کی۔ اخبار کے مطابق یہ مذاکرات گذشتہ ماہ دوحہ میں شروع ہوئے تھے۔ حماس نے نیت نیتی کے اظہار کے لیے ایک قیدی سیگی ڈیکل کو رہا بھی کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں