امریکا کے کئی شہروں میں طلبہ، سائنس دانوں اور محققین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی اخراجات کٹوتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان کٹوتیوں کے نتیجے میں وفاقی ایجنسیوں میں بنیادی ملازمتوں کی منسوخی اور اہم تحقیقات کے لیے مختص وسائل میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
جنوری میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ہی ان کی انتظامیہ وفاقی اخراجات کم کرنے میں مصروف ہے۔ امریکا نے عالمی ادارہ صحت اور پیرس ماحولیاتی سمجھوتے سے باہر آنے کا اعلان کر دیا۔ مزید یہ کہ صحت اور ماحولیات کی تحقیق کے شعبوں میں کام کرنے والے سیکڑوں وفاقی ملازمین کو بے دخل کر دیا گیا۔
ان تمام اقدامات پر اعتراض کے حامل محققین، ڈاکٹر، طلبہ، انجینئر اور منتخب ذمے داران نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن اور شکاگو جیسے بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ انھوں نے حالیہ اقدامات کو مسترد کر دیا جو ان کے نزدیک سائنس پر غیر معمولی نوعیت کا حملہ ہے۔
واشنگٹن میں احتجاجیوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن میں کہا گیا کہ "امیروں کی نہیں بلکہ علم کی فنڈنگ کرو" اور "امریکا علم کی بنیاد پر قائم ہوا"۔
کئی محققین نے مالی اسکالر شپس اور دیگر سپورٹ کے مستقبل کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا۔ بعض اسکالر شپس کو معطل کیے جانے کے سبب جامعات نے ڈاکٹریٹ پروگرام میں یا تحقیقی منصبوں پر قبول کیے جانے والے طلبہ کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔
اس سلسلے میں ان لوگوں کی تشویش واضح ہے جو ابھی تک اپنے کیرئر کے آغاز میں ہیں۔
-
نوبل انعام کے 300 سے زائد امیدواروں کی فہرست میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل
اس سال کے نوبل امن انعام کے لیے 300 سے زائد افراد اور اداروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ...
بين الاقوامى -
یوکرین کو دی گئی امداد کی' منی بیک گارنٹی چاہتے ہیں : ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم یورپی اتحادی یوکرین کو تین سالہ جنگ میں اب تک دی ...
بين الاقوامى -
سنہری دور شرو ع ہوچکا: ڈونلڈ ٹرمپ کا ’سعودی مستقبل کی سرمایہ کاری اقدام ‘سے خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری کا سنہری دور شرو ...
بين الاقوامى