چیمپیئنز ٹرافی کا جشن: بھارت میں جھڑپوں میں چار زخمی
جشن منانے والوں نے مسجد کے باہر پٹاخے چلائے، گاڑیوں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا
حکام نے بتایا کہ ہندوستان کے وسطی قصبے ڈاکٹر امبیڈکر نگر میں اتوار کے روز جھڑپوں میں کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے جب ہندوستان کی چیمپئنز ٹرافی میں فتح کا جشن منانے والوں نے ایک مسجد کے باہر پٹاخے چھوڑ دیئے۔
ہندوستان نے اتوار کی شام دبئی میں فائنل میں نیوزی لینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دے کر چیمپئنز ٹرافی اور مسلسل دوسرا عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
یہ قصبہ ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے تقریباً 200 کلومیٹر (124 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
سینئر پولیس افسر ہٹیکا وسال نے نامہ نگاروں کو بتایا، "جلوس نکل رہے تھے جن میں بعض لوگوں نے مسجد کے باہر پٹاخے چلائے جس کے بعد فریقین میں اختلاف ہو گیا۔"
مقامی میڈیا نے اطلاع دی کہ پولیس نے تشدد پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔
ویڈیو فوٹیج میں ویران گلیوں میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والے پولیس اہلکاروں کو دکھایا گیا جبکہ بعض گاڑیوں کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی اور کچھ جل کر سیاہ ہو گئی تھیں۔
فوٹیج میں سڑک پر شیشے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے اور دکانیں بھی دکھائی گئیں جنہیں نقصان پہنچایا گیا تھا۔
ایک اور سینئر پولیس افسر نمیش اگروال نے نامہ نگاروں کو بتایا، "صورتِ حال اس وقت قابو میں ہے۔ حساس علاقوں میں پولیس گشت شروع کر دی گئی ہے۔"
ہندو اکثریت والے ہندوستان میں دنیا کی تیسری بڑی مسلم آبادی رہائش پذیر ہے اور کرکٹ کی فتح کے جشن میں جھڑپیں معمول کی بات ہیں۔
مقامی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ اسی طرح مغربی ریاست مہاراشٹر میں پولیس کو گذشتہ ماہ اسی ٹورنامنٹ میں روایتی حریف پاکستان کے خلاف ہندوستان کی فتح کا جشن منانے والے ہجوم کو قابو کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا تھا۔
کارکنان، اپوزیشن گروپوں اور بعض حکومتوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے زیرِ قیادت وفاقی حکومت مسلمانوں سے امتیازی سلوک کرتی ہے اور انہیں نشانہ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مودی اور ان کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔