رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزہ دار ہر رات کے آخری نصف کے بعد سحری کھانا شروع کرتے ہیں۔ اگلے دن کے روزے کی تیاری میں بہت سے لوگ ان صحت بخش کھانوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو روزے کے دوران ان کی مدد کرتے ہیں۔ روزہ دار سوچتے ہیں کہ وہ ایسے کھانوں سے گریز کریں جو روزے کی حالت میں ان کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
مصر کی المنصورہ یونیورسٹی میں معدے اور اینڈوسکوپی کی پروفیسر ڈاکٹر اسماء جمیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایسے صحت بخش کھانوں کے بارے میں بات کی جو روزہ داروں کو روزے کے دوران دن کے وقت اپنے جسم کی توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اسماء نے سحری میں تاخیر اور کھجور کھانے کا مشورہ دیا کیونکہ ان میں فائبر اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور روزے کے دوران خون میں شوگر کی سطح برقرار رہتی ہے۔
کھیرا اور تربوز
انہوں نے کھیرے اور تربوز کو کھانے کا بھی مشورہ دیا کیونکہ ان میں 90 فیصد پانی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ایسے عناصر ہیں جو پانی کی کمی کو روکتے ہیں اور معدے کی سوزش اور السر کی موجودگی کو کم کرتے ہیں، جبکہ روزے کے دوران خون میں شکر کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے پیچیدہ شکر جیسے "چاول، جئی اور مکئی کے آٹے کی روٹی" کھانے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر اسماء جمیل نے سحری کے دوران مٹھائی کھانے سے گریز پر زور دیا۔ ساتھ ہی ساتھ "ویجیٹیبل آئل" جیسی پیچیدہ چکنائیوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سحری کے دوران پانی پینے سے گریز کرنا چاہیےکیونکہ یہ بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو لوگ تیزابیت کا شکار ہیں ان کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے سحری کھائیں۔
چائے اور کافی
مصری وزارت صحت اور آبادی نے ماہ رمضان کے دوران روزہ رکھنے والوں کو اہم مشورے فراہم کیے ہیں، جو کہ سحری کھانے کے دوران چائے اور کافی کا استعمال کم کرنا ہے تاکہ اگلے دن روزے کے طویل گھنٹوں کے دوران پیاس اور پانی کی کمی محسوس نہ ہو۔
وزارت صحت نے وضاحت کی کہ چائے اور کافی پیشاب آور مشروبات ہیں، جو جسم سے سیال مادوں کا زیادہ نقصان کرتے ہیں، جو پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
روزہ داروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی چیزیں کھانے یا پینے سے گریز کریں جن سے سیال مادوں کے ضائع ہونے سے کا اندیشہ ہو۔ چائے اور کافی میں کیفین ہوتی ہے جو گردوں کو زیادہ پیشاب کے اخراج پر اکساتی ہے، جس سے روزے کے اوقات میں پیاس کا احساس بڑھ جاتا ہے۔