ناسا ایجنسی میں ملازمتوں پر جھاڑو پھیرنے کا عمل شروع، چیف سائنٹسٹ بھی لپیٹ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) نے کل منگل کے روز اپنے ملازمین کی برطرفی کی پہلی لہر کا اعلان کیا ہے۔ ملازمت سے نکالے جانے والوں میں ایجنسی کی ایک سینئر خاتون سائنس دان بھی شامل ہے۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کے اخراجات میں انتہائی کمی لانے کے سلسلے میں ہے اور یہ صدر ڈؑونلڈ ٹرمپ کی چاہت پر ہو رہا ہے۔

ناسا کی ترجمان کے مطابق فارغ کی جانے والی پہلی کھیپ میں ایجنسی کے 23 ملازمین شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

برطرف کیے جانے والوں میں ایجنسی کی سینئر خاتون سائنس دان اور مشہور ماہر ماحولیات کیتھرین کیفلن بھی شامل ہیں۔ ان کا تقرر سابق صدر جو بائیڈن نے 2022 میں کیا تھا۔ کیتھرین نے ماحولیات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں کی تیاری میں حصہ لیا۔

جنوری میں وائٹ ہاؤس میں کرسی صدارت پر واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے سلسلہ وار اعلانات کیے ہیں جن کا ہدف سائنسی حلقے بنے ہیں۔ ان اعلانات میں ماحولیات اور صحت سے متعلق وفاقی ایجنسیوں میں بجٹ میں شدید کٹوتی اور سیکڑوں ملازمین کی برطرفی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ناسا ایجنسی کا ماحولیاتی تحقیق میں ایک اہم کردار ہے، کیوں کہ یہ زمین کی نگرانی کے لیے مختص سیٹلائٹ بیڑے کو چلاتی ہے، فضائی اور زمینی تحقیقی مطالعے کرتی ہے اور محققین اور عوام کے لیے اوپن سورس ڈیٹا فراہم کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں