انروا کے خاتمے سے فلسطینی بچوں کی نسل تباہ ہو جائے گی: ایجنسی چیف

تعلیم سے محرومی انتہا پسندی کو مزید فروغ دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یو این آر ڈبلیو اے (انروا) کے سربراہ نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کا خاتمہ ہو گیا تو یہ بچوں کی ایک نسل کو تعلیم سے محروم کر دے گا اور "مزید انتہا پسندی کے بیج بونے کا سبب بنے گا۔"

مالی امداد کی سنگین صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فلپ لازارینی نے "ایجنسی کے انہدام کے حقیقی خطرے" سے خبردار کیا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، اگر ایسا ہوا تو "ہم یقیناً بچوں کی ایک نسل قربان کر دیں گے جو مناسب تعلیم سے محروم رہیں گے۔"

لازارینی نے تنظیم کو غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں تقریباً 60 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے "زندگی کی لکیر" قرار دیا ہے۔

لیکن سات اکتوبر کے حملے کے بعد انروا طویل عرصے سے سخت اسرائیلی تنقید کی زد میں ہے۔

اور اس سال کے شروع میں اسرائیل نے انروا سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے اسرائیلی سرزمین پر کام کرنے پر پابندی لگا دی۔

اگرچہ یہ بدستور غزہ اور مغربی کنارے میں کام کر سکتی ہے لیکن اسے اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے سے روک دیا گیا ہے جس سے فلسطینی علاقوں میں امداد کی محفوظ ترسیل کو مربوط کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اسرائیل نے دلیل دی ہے کہ انروا کو اقوامِ متحدہ کی دیگر ایجنسیوں یا این جی اوز سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

لازارینی نے اس ہفتے کے شروع میں تسلیم کیا کہ اگر جنگ سے پیدا شدہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے "ٹرکوں کو غزہ میں لانا" واحد مقصد ہے تو دوسرے ادارے بھی اس میں قدم رکھ سکتے ہیں۔

لیکن انہوں نے زور دیا ہے کہ انروا کا کردار بہت وسیع ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم بنیادی طور پر حکومت جیسی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی این جی او یا اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں عوامی سطح پر خدمات کی فراہمی میں اچانک قدم رکھ سکتی ہیں۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ انروا کی تعلیمی خدمات کے نقصان کے خاص طور پر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا، "اگر آپ غزہ میں 100,000 لڑکیوں اور لڑکوں کو مثلاً تعلیم سے محروم کر دیں، ان کا کوئی مستقبل نہ ہو اور اگر ان کے سکول میں صرف مایوسی اور ملبے میں زندگی گذارنا ہو تو میں کہوں گا کہ ہم مزید انتہا پسندی کے بیج بو رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تباہی کا سبب ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں