شام اور لبنان کی سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کے دوران میں العربیہ نیوز کا کیمرا مین رستم صلاح معمولی طور سے زخمی ہو گیا۔ اس کے علاوہ چند دیگر صحافیوں کو بھی چوٹیں آئیں۔ مذکورہ افراد لبنان کے سرحدی قصبے القصر کے نزدیک شامی فوج اور حزب اللہ کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کی کوریج میں زخمی ہوئے۔
جھڑپوں میں ایک شامی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ حزب اللہ نے ان کے ٹھکانے کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔
لبنان میں العربیہ کے نمائندے نے لبنانی فوج کے ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کی قیادت کی جانب سے یہ احکامات جاری کیے گئے تھے کہ شام سے ہونے والی کارروائی کا اسی طریقے سے جواب دیا جائے۔
اس سے قبل العربیہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ حزب اللہ کے عناصر کی جانب سے شام کے صوبے حمص میں زیتا کے علاقے پر راکٹ داغا گیا تھا جس کے نتیجے میں شامی فوج کے دو اہل کار ہلاک ہو گئے۔
یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شامی فوج کو لبنان کے ساتھ سرحد پر مکمل طور پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
العربیہ نیوز چینل کے کیمرے نے حزب اللہ کی جانب سے شامی فوج کو درجنوں راکٹوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کارروائی اپنی آنکھ میں محفوظ کر لی۔
اس دوران شام کے علاقے القصیر میں موجود شامی فوج کی توپ نے لبنان کے سرحدی علاقے الہرمل میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل حزب اللہ نے شام کے تین عسکری اہل کاروں کو اغوا کرنے کے بعد انھیں قتل کر دیا تھا۔ شام
ی وزارت دفاع کے مطابق حزب للہ ملیشیا نے شامی سرحد کے اندر گھس کر شامی وزارت داخلہ کے زیر انتظام تین جنگجؤوں کو موت کی نیند سلا کر ان کی لاشیں لبنان لے گئی۔
بعد ازاں لبنانی فوج نے صلیب احمر تنظیم کے ذریعے تینوں فوجی اہل کاروں کی لاشیں شامی حکام کے حوالے کر دیں۔
ادھر حزب اللہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ لبنان شام سرحد پر ہونے والے واقعات سے ان کا کوئی تعلق ہے۔