مصر میں 'اسٹیٹ انفارمیشن سروس' نے منگل کی شام اعلان کیا ہے کہ "بعض نیوز ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے حال ہی میں اس طرح کے جھوٹے دعوے کیے کہ مصر نے قابض ریاست (اسرائیل) کو فوجی امداد پیش کی ہے۔ یہ ذرائع مصر کے بارے میں جھوٹے الزامات پھیلانے کے عادی ہیں، یہ مصر کے عظیم عوام کے ہاتھوں دہشت گرد جماعت کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلسل ایسا کر رہے ہیں"۔
سروس نے واضح کیا کہ "اس طرح کے جھوٹے دعوؤں تک گر جانا یہ باور کراتا ہے کہ حقیقت سے متعلق دماغی عدم توازن اور جھوٹ بولنے کی عادت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان اب ان ویب سائٹوں اور میڈیا پلیٹ فارموں کا ایک مستقل اور بنیادی جزو بن چکا ہے۔ یہ دماغی عدم توازن اور جھوٹ بولنے کی عادت ہیں جو ان کو غزہ پر ہونے والے خون ریز حملے کے حوالے سے مصر کے واضح اور ثابت موقف کو دیکھنے میں عارضی یا مستقل طور پر اندھا کر دیتی ہیں۔ مصر نے تمام ممکنہ وسائل کے ساتھ غزہ کے لیے بھرپور مدد فراہم کی۔"
سروس کا مزید کہنا تھا کہ "اس ذہنی انتشار اور جھوٹ کی عادت نے اس حقیقت کو دھندلا دیا کہ مصر ہی تھا جس نے (اسرائیلی) جارحیت کے آغاز کے بعد سے فلسطینی بھائیوں کی غزہ کی پٹی سے جبری ہجرت کے ذریعے مسئلہ فلسطین کے تصفیے کو مسترد کرنے کے سلسلے میں عرب اور بین الاقوامی موقف کی بنیاد رکھی۔ اسی کے باعث مصر کو قابض ریاست کے کئی ذمے داران اور میڈیا کی جانب سے مخالف مہموں کا سامنا کرنا پڑا۔"
اسٹیٹ انفارمیشن سروس کے مطابق "مصر ہے جس نے غزہ میں اپنے بھائیوں کو 75 فی صد سے زیادہ امداد فراہم کی، جس نے زخمیوں اور مریضوں کے علاج کے لیے اپنی تمام صحت کی سہولتیں مہیا کیں، جس نے حملے کے پہلے دن سے ہی اس کی روک تھام کے لیے تمام مشکلات برداشت کیں، اور جو ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور جس نے فلسطینی داخلی اختلافات کو ختم کرنے کی کوششیں کبھی نہیں روکیں۔ مصر وہ ملک ہے جو حق و انصاف کا مکمل دفاع کرتا ہے، جارحیت اور قبضے کی شدید مخالفت کرتا ہے اور یہ وہ اصول ہیں جن پر وہ بطور قوم اور قیادت آٹھ دہائیوں تک قائم رہا۔"