دس سال بعد زیادہ تر چیزوں کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں رہے گی: بل گیٹس

مصنوعی ذہانت زیادہ تر کاموں کے لیے زیادہ موثر اور سستی متبادل فراہم کردے گی: شریک بانی مائیکرو سافٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی ارب پتی بل گیٹس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلی دہائی میں مصنوعی ذہانت میں ترقی کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا بھر میں زیادہ تر چیزوں کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے وضاحت کی ہے کہ اس وقت مہارت میں ابھی بھی "کمی" ہے۔ انہوں نے انسانی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر ہم اب بھی بہت سے شعبوں میں انحصار کرتے ہیں۔ ان ماہرین میں سپر ڈاکٹر اور سپر ٹیچر شامل ہیں۔

سی این بی سی کی پیش کردہ رپورٹ کا العربیہ نے جائزہ لیا جس کے مطابق بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ اگلی دہائی میں یہ سب مفت اور عام ہو جائے گا - قیمتی طبی مشورے ملیں گے اور زبردست ٹیوشن کی سہولت میسر آ جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جسے گیٹس نے "مفت ذہانت" کہا ہے۔

بل گیٹس نے کہا مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ٹیکنالوجیز میں تیزی سے ترقی ہو گی جو آسانی سے قابل رسائی ہوں گی اور ہماری زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کریں گی۔ بل گیٹس نے مزید کہا بہتر ادویات اور تشخیص سے لے کر وسیع پیمانے پراے آئی ٹیوٹرز اور ورچوئل اسسٹنٹ دستیاب ہوں گے۔

بل گیٹس نے مزید یہ بھی کہا "یہ بہت گہرا ہے اور تھوڑا خوفناک بھی کیونکہ یہ اتنی جلدی ہو رہا ہے اور اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس بارے میں بحث جاری ہے کہ زیادہ تر انسان AI سے چلنے والے اس مستقبل میں کس طرح فٹ ہوں گے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی انسانوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے بجائے زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دے گی اور معاشی ترقی کو تحریک دے گی۔ اس سے مزید ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

دوسری طرف مائیکرو سافٹ کی مصنوعی ذہانت کمپنی کے سی ای او مصطفی سلیمان جیسے دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند سالوں میں مسلسل تکنیکی ترقی تقریباً تمام شعبوں میں زیادہ تر ملازمتوں کی شکل بدل دے گی۔ اے آئی کی یہ ترقی افرادی قوت پر بہت زیادہ غیر مستحکم کرنے والا اثر ڈالے گی۔

سلیمان نے اپنی 2023 کی کتاب دی نیکسٹ ویو میں لکھا کہ یہ ٹولز صرف عارضی طور پر انسانی ذہانت میں اضافہ کریں گے۔ ہمیں تھوڑی دیر کے لیے ہوشیار اور زیادہ کارآمد بنائیں گے اور بڑے پیمانے پر معاشی نمو کو ہوا دیں گے لیکن جوہر میں یہ مزدوروں کو بے گھر کر دیں گے۔ مصنوعی ذہانت پریشان کن ہے اور ایک شاندار موقع کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔

بل گیٹس ان عمومی فوائد کے بارے میں پر امید ہیں جو اے آئی انسانیت کو فراہم کرسکتی ہے۔ ان میں مہلک بیماریوں کے لیے جدید علاج، موسمیاتی تبدیلیوں کے جدید حل اور سب کے لیے اعلیٰ معیار کی تعلیم جیسے فوائد شامل ہیں۔ بل گیٹس نے اپنے اس یقین پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کبھی بھی مخصوص قسم کی ملازمتوں کی جگہ نہیں لے گی۔ لوگ شاید مشینوں کو بیس بال کھیلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہیں گے۔

بل گیٹس نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہوں گی جنہیں ہم اپنے لیے اپنی مرضی کے مطابق بناتے ہیں لیکن چیزیں بنانے اور ان کی نقل و حمل اور خوراک اگانے کے معاملے میں وقت کے ساتھ ساتھ وہ مسائل بنیادی طور پر حل ہو جائیں گے۔

گیٹس نے 2023 کی ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے "قابل فہم اور جائز خدشات" پیدا ہوتے ہیں اور آج کا جدید ترین AI سافٹ ویئر گندگی سے چھلنی ہے ۔ مثال کے طور پر اس سے آن لائن جھوٹ پھیلانے کا خطرہ ہے۔ گیٹس نے ستمبر 2024 میں CNBC کے پروگرام ’’ DIY ‘‘کو بتایا تھا کہ اگر گیٹس کو شروع سے کوئی نیا پروجیکٹ شروع کرنا پڑا تو وہ مصنوعی ذہانت پر مرکوز ایک سٹارٹ اپ شروع کریں گے۔

گیٹس نے برسوں پہلے مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کی پیش گوئی کی تھی۔ گیٹس نے تقریباً ایک دہائی قبل AI انقلاب کی پیش گوئی کی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ شروع سے آغاز کرنا چاہیں تو وہ کس شعبے پر توجہ مرکوز کریں گے تو انہوں نے فوری طور پر AI کا انتخاب کیا تھا۔

کولمبیا یونیورسٹی میں 2017 کے ایک پروگرام میں گیٹس نے کہا تھا کہ آج مصنوعی ذہانت پر کام بہت بلندی پر ہے جس میں برکشائر ہیتھ وے کے سی ای او وارن بفیٹ نے شرکت کی۔ انہوں نے گوگل کی ڈیپ مائنڈ مصنوعی ذہانت کی لیب کی "بڑی کامیابی" کی طرف اشارہ کیا جس نے ایک کمپیوٹر پروگرام تیار کیا جو بورڈ گیم گو میں انسانوں کو شکست دینے کے قابل ہے۔ اس وقت چیٹ جی پی پی طرز کی ٹیکنالوجی جنریٹو سکرپٹس تیار کرنے سے برسوں دور تھی۔ یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر زبان کے ماڈلز پر انحصار کرتی ہیں۔

تاہم 2023 تک گیٹس AI کی ترقی کی رفتار سے اس قدر حیران ہوئے کہ انہوں نے OpenAI کو چیلنج کیا کہ وہ ایک ایسا ماڈل بنائے جو ہائی سکول کے اے پی بیالوجی کے امتحان میں سب سے زیادہ سکور حاصل کر سکے۔ اس کام میں دو یا تین سال لگیں گے۔ گیٹس نے لکھا کہ انہوں نے یہ منصوبہ صرف چند مہینوں میں مکمل کیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو 1980 میں گرافیکل یوزر انٹرفیس کے بعد سب سے اہم تکنیکی پیشرفت قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں