اسرائیل نے غزہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے لیے کون سے تین ’کوریڈور‘ قایم کیے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کی توسیع جاری ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے کل اعلان کیا کہ اس کی فوج جنوبی غزہ کی پٹی میں ایک نئے قائم کردہ سکیورٹی کوریڈور میں تعینات کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے چند روز قبل تصدیق کی تھی کہ اس نئی "موراگ" راہداری جسے فلسطینی "میرج" کوریڈور کہتے ہیں کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ غزہ کے جنوب میں واقع شہر رفح کو باقی پٹی سے الگ کر دے گا۔

خبر رساں ادارے ’ اے پی‘ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی طرف سے شائع کردہ نقشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گذرگاہ غزہ کی پٹی میں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔

میراگ کوریڈور میں اسرائیلی 36ویں ڈویژن کی افواج وہاں تعینات ہیں تاہم ان کی تعداد واضح نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے تجویز پیش کی تھی کہ راہداری کو دونوں شہروں کے درمیان بڑھایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک "دوسرا فلاڈیلفی کوریڈور" ہو گا جس میں مصر کے ساتھ سرحد کے غزہ کی طرف جنوب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو گزشتہ مئی سے اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ سال مئی سے فلاڈیلفی کوریڈور جسے "صلاح الدین کوریڈور" بھی کہا جاتا ہے پر قبضہ کررکھا ہے۔ اسرائیل نے مصر اور فلسطینیوں کے مطالبات کے باوجود اس سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

اسرائیل نیٹزارم کوریڈور کو بھی کنٹرول کرتا ہے جو غزہ کے شمالی تیسرے حصے بشمول غزہ سٹی کو باقی پٹی سے الگ کرتا ہے۔ تاہم اس کوریڈور سے متصل رشید کوسٹل ہائی وے کے ذریعے بیل گاڑیوں کے ذریعے فلسطینیوں کی آمد ورفت کی اجازت دی جاتی ہے۔

فلاڈیلفی کوریڈور اور نیٹزرم دونوں اسرائیلی سرحد سے بحیرہ روم تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے گذشتہ بدھ کو واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ "غزہ کی پٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور بتدریج حماس پر اسرائیلی قیدیوں کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں