اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ماہ سے دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں امن بحال کرنے کے لیے مصری کوششیں جاری ہیں۔ باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قاہرہ نے جنگ بندی کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم اس تجویز کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں جس پر ایک باخبر فلسطینی ذریعے نے کہا ہے کہ حماس کو پیش کیے جانے والے ایک قدم کے بارے میں افواہیں غلط تھیں۔
مستقبل کے انتظامات
ذرائع نے اتوار کے روز العربیہ کو یہ بھی بتایا کہ حماس نے جنگ کے بعد کے دن کے حوالے سے لچک دکھائی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ الفتح کا وفد اب بھی مصری حکام سے اگلے دن کے انتظامات کے بارے میں ملاقاتیں کر رہا ہے اور فلسطینی حکومت ایک کمیٹی کی نگرانی سنبھال رہی ہے جو اس شعبے کا انتظام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے زور دیا ہے کہ قاہرہ نے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں حماس کی رضامندی اور اسرائیل کے مطالبات کو یکجا کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مصری فریق تجویز کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہے۔ خاص طور پر اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان کل پیر کو واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کی روشنی میں۔ انہوں نے کہا ٹرمپ نے گزشتہ منگل کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو فون کیا تھا اور انہوں نے غزہ کے مسئلے اور قیدیوں کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
واضح رہے 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کے بعد 18 مارچ کو اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کردیے اور زمینی کارروائیاں بھی شروع کردی ہیں۔ اسرائیل نے ایک سے زیادہ مرتبہ فلسطینی اتھارٹی کو تباہ شدہ پٹی کا انتظام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔
اسرائیل نے یہ بھی مطالبہ کیا وع کہ حماس اپنے ہتھیار حوالے کرے اور اس کے رہنما غزہ سے نکل جائیں۔ اسرائیل نے اسے اپنی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔