ممبئی حملوں میں ملوث مشتبہ شخص کی حوالگی کے لیے بھارت کو امریکہ سے امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارتی حکام امریکہ سے ممبئی حملوں میں مشتہ طور پر ملوث ایسے شخص کی امریکہ سے حوالگی ممکن بنانے کے لیے تیاری کر رہے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مشتبہ ایسا شخص کینیڈین شہری ہے جس کی پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی۔

چونسٹھ سالہ تہور حسین رانا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے جلد امریکہ سے بھارت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسے بھارت میں مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔ بھارت کی طرف سے اس سلسلے میں ایک بھارتی ٹیم بھی امریکہ روانہ کر دی گئی ہے۔

بھارت الزام لگاتا ہے کہ مذکورہ کینڈین شہری کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ جسے اقوام متحدہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ تاہم پاکستان کی طرف سے ان بھارتی دعوؤں اور الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ تہور رانا کو بھارت کے حوالے کر دے گا۔

امریکی سپریم کورٹ نے اسی مہینے تہور رانا کی امریکہ میں ہی رہنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یاد رہے پاکستان اور بھارت دیرینہ حریف ہیں۔ واضح رہے ممبئی حملے نومبر 2008 میں ہوئے تھے۔ اس دوران 10 بندوق برداروں نے ایک دن سے زائد تک یہ کارروائی جاری رکھی تھی۔

بھارت نے تہور رانا پر الزام عاید کیا ہے امریکہ میں 2013 کے دوران سزا پانے والے اپنے دیرینہ دوست ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی مدد کی تھی۔ ہیڈلی کو 35 سال قید کی سزا 2013 میں سنائی گئی تھی۔

تہور رانا 1997 سے کینیڈا کے شہری ہیں۔ ان کا شکاگو میں کاروبار ہے۔ ان کی ایک لیگل فرم بھی ہے۔ انہیں 2009 میں امریکی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ تاہم امریکی عدالت نے 2013 میں تہور رانا کو ممبئی حملوں میں مدد کرنے کے الزام سے بری کر دیا تھا۔ البتہ تہور رانا کو لشکر طیبہ کی ڈنمارک میں ایک قتل منصوبے میں مدد دینے کے الزام میں سزا سنائی تھی۔

تہور رانا کو 14 سال قید کی سزا سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وہ ڈنمارک میں توہین رسالت پر مبنی کارٹون شائع کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ناراض کرنے والے ایک اخبار کے دفتر پر حملے میں ملوث تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں