امریکہ کی مشہور اور دنیا میں امریکی آزادیوں کے تصورات کی حامل سٹینفرڈ یونیورسٹی کے 12 طلبہ پر سنگین جرم کرنے کا الزام عاید کر دیا گیا ہے۔ سٹینفرڈ کے ان طلبہ نے جون 2024 میں یونیورسٹی کے اندر فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا ان نعروں کا استعمال کیا تھا کہ ' فلسطین آزاد ہو گا۔'
ان طلبہ کا یہ مظاہرہ کرنا 'سنگین جرم بن گیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ ان میں سے ایک طالبعلم یونیورسٹی عمارےت کے ایک حصے میں کھڑکی سے داخل ہوا ، انہوں نے احتجاج کرنے کے لیے چہروں پر ماسک چڑھا رکھے تھے اور انہوں نے یونیورسٹی سکول کے سربراہ کمرے میں خود کو بند کر لیا تھا۔
علاوہ ازیں ایک کمرے پر یہ لکھ کر 'یہ دڈکٹر عدنان کا دفتر ہے' فلسطین کے ایک حامی استاد کا علامتی طور پر دفتر قرار دیا تھا،
حالانکہ ڈاکٹرعدنان البرش اس سے پہلے ہی اسرائیل کی ایک جیل میں قید ہونے کے بعد پراسرار طور پر ہلاک ہو چکے تھے، یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ اب یونیورسٹی کے اپنے عہدے پر جائز طریقے سے فائز رہے ہیں یا نہیں۔ وہ کئی ماہ اسرائیلی جیل میں قید رکھے گئے اور اسی دوران ان کی پر اسرار موت واقع ہوگئی تھی۔ خیال رہے اسرائیلی جیلوں کی قیدیوں پر بد ترین تشدد کی وجہ سے ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ان گرفتار کیے گئے طلبہ کی عمریں 32 سال سے 32 سال تک تھیں۔ ان سب نے یونیورسٹی کی ایک عمارت میں داخل ہو کر اس پر غیر قانون قبضے کی صورت پیدا کر لی تھی۔ جو ایک جرم تھا ۔
یاد رہےسٹینفرڈ یونیورسٹی کے طلبہ کا یہ فلسطینی پر پون صدی کے ناجائز قبضے کے خلاف احتجاج اس وقت سامنے آیا تھا جب پچھلے سال امریکہ میں صدارتی الیکشن کے لیے مہم عروج پر تھی اور سابق صدر جوبائیڈن کی جگہ کملا ہیرس کو بہتر امیدوار سمجھتے ہوئے آگے لانے کی باتیں ہو رہی تھیں۔
ان طلبہ پر یونیورسٹی کی ایک عمارت پر قبضہ کرنے کی سازش کا الزام بھی عاید کیا گیا ہے۔ امریکہ کی انتطامیہ اور حکام کے مطابق اس وقت کارروائی کرتے ہوئے 13 طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں یونیورسٹی کی عمارت کوشدید نقصان پہنچا تھا۔
تاہم یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی عمارت کو آگ لگا کر نقسان پہنچایا گیا ، بارود لگا کر یا عمارت کو مسمار کر کے 'شدید نقصان' پہنچایا گیا ۔ نیز یونیورستی کے کسی طالبعلم کو جسمانی طور پر پہنچنے والے نقصان کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔
امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس طرح کے مطاہروں اور اسرائیلی جنگ کے خلاف آواز بلند کیے جانے کے پے درپے واقعات کے بعد یونیورسٹیوں کے لیے فیڈرل گورنمنٹ کی فنڈنگ کو روک دیا ہے۔فنڈز کی فراہمی روکنے سے متاثر ہونےوالی یونیورسٹیوں میں ایک ستینفرڈ یونیورسٹی بھی ہے۔ نسانی ھقوق کی تنظیموں نے امریکی انتطامیہ کے ان فیصلوں کو بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔
دوسری جانب یونیورسٹیوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو موقف یہ ہے کہ وہ یہود مخالفت کی وجہ سے احتجاج نہیں کرتے بلکہ اسرائیلی فوج کے غزہ پر جارحاہ جنگ مسلط کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں جس میں ہونےوالی ہزاروں ہلاکتوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہےاور یہی ہمارے احتجاج کا سبب ہے۔