افغان طالبان نے قتل کے جرم میں تین افراد کو سرعام سزائے موت دیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افعانستان میں طالبان حکومت نے قتل کے تین مجرموں کو سرعام سزائے موت دے دی۔ عدالت نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر اعلان کیا کہ دو افراد کو مقتولین کے ایک رشتہ دار نے وسطی صوبہ بادغیس کے دارالحکومت قلعہ نو میں لوگوں کے سامنے سر عام گولی مار کر قتل کردیا۔ تیسرے شخص کو نمروز صوبے کے دار الحکومت زرنج میں موت کی نیند سُلا دیا گیا۔

اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سپریم کورٹ نے اعلان کیا ہے کہ طالبان نے جمعہ کو قتل کے مجرم تین افراد کو سزائے موت دے دی ہے۔ اس طرح طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے سرعام سزائے موت پانے والے مردوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔

عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ دوسرے مردوں کو گولی مارنے پر ان مجرموں کے مقدمات کو بڑی باریکی سے اور بار بار جانچا گیا تھا۔ یہ سزائیں بدلے کے طور پر دی گئیں۔ سزاؤں پر اس وقت عمل کیا گیا جب مقتولین کے لواحقین نے مجرموں کو معاف کرنے سے انکار کردیا۔ جمعرات کو وسیع پیمانے پر گردش کرنے والے سرکاری نوٹس میں افغانوں کو اس ایونٹ میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ طالبان کی اقتدار میں واپسی کے تقریباً چار سال بعد افغانستان کو اپنی جدید تاریخ کے بدترین انسانی اور معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے انتباہات اور خدشات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔

لائبریری آف سائنس اینڈ مینٹل ہیلتھ کے سائنسی جریدے کی طرف سے امریکہ کی لارنس ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی کے تعاون سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 90 فیصد افغان غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 84 فیصد کو صحت کی مناسب سہولیات تک رسائی نہیں ہے اور 85 فیصد تشدد کا شکار ہیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کو ظاہر کر رہے ہیں تاہم طالبان حکام، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک خود کفالت کی راہ پر گامزن ہے، اقوام متحدہ سے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی نے افغانستان کو معاشی بحران میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے پہلے ہفتوں میں ملک میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں لیکن انہوں نے اقوام متحدہ کی مدد سے اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ اس مدت کے دوران صرف امریکہ نے ہی کابل کو تقریباً 3.33 بلین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔ یہ امداد اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور امریکی حکومتی ایجنسیوں نے افغانستان کے مختلف شعبوں میں تقسیم کی ہے۔

افغانستان میں آخری مرتبہ سزائے موت پر عمل درآمد 2024 میں کیا گیا تھا۔ اس وقت پکتیا صوبے کے دارالحکومت گردیز کے ایک سٹیڈیم میں ہزاروں افراد کے سامنے مقتول کے خاندان کے ایک فرد نے مجرم کے سینے میں تین گولیاں اتار دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں