سوڈان میں سرکاری فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔
آج منگل (15 اپریل) کو خرطوم ریاست کے گورنر احمد عثمان حمزہ نے بتایا کہ دار الحکومت کا 98% حصہ ریپڈ سپورٹ سے خالی ہو چکا ہے۔
العربیہ نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں انھوں نے واضح کیا کہ شہر میں ان کی باقیات رہ گئی ہیں جن کو گورنر نے "ملیشیا" قرار دیا۔
احمد عثمان کے مطابق ریپڈ سپورٹ کی جانب سے بنیادی خدمات کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد شہریوں کے لیے تنگی پیدا کرنا ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ گذشتہ عرصے کے دوران میں بجلی اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سبب جنم لینے والے بحرانات کے حل پر کام ہو رہا ہے۔
گورنر کے مطابق خرطوم کی آبادی کی واپسی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ جنگ سے قبل یہاں تقریبا 1.5 کروڑ نفوس آباد تھے۔
گورنر نے بتایا کہ لوگوں کی بڑی تعداد میں واپسی کا عمل سڑکوں پر ٹریفک کی کثرت اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے ظاہر ہو رہا ہے۔ انھوں نے خرطوم کی باقی آبادی پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آ جائیں۔
گورنر نے واضح کیا کہ طبی خدمات کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔ ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے طبی تنصیبات کو منظم طور پر تخریب کا نشانہ بنایا گیا اور صحت کے شعبے سے متعلق مہنگا ساز و سامان لوٹ لیا گیا۔
ہنگامی حالت ختم کرنے اور سیکورٹی پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے گورنر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سیکورٹی اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
سوڈان میں عبدالفتاح البرہان کے زیر قیادت سرکاری فوج اور محمد حمدان دقلو عُرف "حمیدتی" کے ما تحت فوجی نیم دستوں "ریپڈ سپورٹ فورسز" کے درمیان جنگ کا آغاز 15 اپریل 2023 کو ہوا تھا۔ یہ جنگ اس وقت چھڑی تھی جب دونوں فریق، مسلح افواج کو ایک مشترکہ فوج میں ضم کرنے اور ملک میں ایک نیا سیاسی عمل شروع کرنے پر بات چیت کر رہے تھے۔
اس تنازع کے نتیجے میں تقریبا 1 کروڑ 30 لاکھ افراد نے بے گھر ہونے کے سبب نقل مکانی کی۔ ان میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ حاصل کی۔ یہ بات اقوام متحدہ نے پیر کے روز بتائی۔