ماسکو میں شام کے سفیر نے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے: روسی میڈیا کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک ذریعے نے TASS کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ میں شام کے سابق سفیر بشار الجعفری نے روس میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو میں شام کے سفیر نے روس میں پناہ کی درخواست کی ہے۔ قبل ازیں رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ الجعفری کو دمشق طلب کر لیا گیا ہے اور روس میں شام کے سفارتی مشن کے سربراہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

تقریباً ایک ہفتہ قبل شامی حکومت کی جانب سے دمشق واپسی کی درخواست کے بعد العربیہ ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ اقوام متحدہ میں شام کے سابق سفیر بشار الجعفری اور ان کے اہل خانہ کو روس میں پناہ دی گئی ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ الجعفری شامی وزارت خارجہ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔

یہ بات شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کی جانب سے دو روز قبل ماسکو میں شام کے سفیر کو دمشق میں مرکزی انتظامیہ کو منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ الجعفری نے اس سے قبل سابق حکومت کی خلاف ورزیوں کی ذمہ داری لینے سے گریز کیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ مافیا ذہنیت کے ساتھ ملک چلانے کی ذمہ دار ہے۔

اچانک صورت حال

انہوں نے دسمبر 2024 میں ماسکو کی طرف سے ایک حیران کن بیان بھی دیا جس میں کہا گیا کہ شام ایک حقیقی حکومت کے تحت نہیں تھا بلکہ ایک کرپٹ اور مافیا جیسے نظام کے زیر کنٹرول تھا جس نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ملک کو گروی رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک اب اس کے تمام شہریوں کا ہے۔ لوگوں کی مشکلات اور چیلنجوں پر قابو پانے کی صلاحیت پر لوگوں کا بڑا اعتماد ہے۔

یاد رہے بشار الجعفری کو 2006 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں شام کا مستقل نمائندہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ کئی سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اقوام متحدہ میں کئی سال کام کرنے کے بعد اکتوبر 2022 میں انہیں ماسکو میں سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں