بھارت میں ایپل کمپنی کی مصنوعات کی ترسیل کرنے والی دو مرکزی کمپنیوں فوکس کون اور ٹاٹا نے رواں سال مارچ میں دو ارب مالیت کے آئی فون امریکہ برآمد کیے۔ یہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ بات کسٹمز سے متعلق معلومات میں سامنے آئی ہے۔
امریکی کمپنی (ایپل) نے ان آلات کو فضائی راستے سے منتقل کیا تا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کی جانے والے ممکنہ کسٹم ٹیرف سے بچا جا سکے۔
اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی نے بھارت میں اپنی پیداوار میں اضافہ کیا اور 600 ٹن آئی فونز امریکہ منتقل کرنے کے لیے خصوصی پروازیں کرائے پر حاصل کیں۔ اس کا مقصد اپنی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک میں وافر ذخیرے کو یقینی بنانا تھا۔ اس لیے کہ ٹرمپ کی جانب سے لگائی جانے والے ٹیرف کے سبب لاگت میں اضافہ ہونے کا خدشہ تھا۔
امریکی انتظامیہ نے رواں سال اپریل میں بھارت سے درآمدات پر 26 فی صد کسٹم ٹیرف عائد کر دیا۔ یہ چین پر لگائے جانے والے 100 فی صد سے زیادہ ٹیرف کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ ٹرمپ نے بیشتر درآمدی ڈیوٹیز کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیا، تاہم چین سے درآمدات کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا۔
روئٹرز نے کسٹمز ڈیٹا کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت میں ایپل کی بڑی سپلائر کمپنی "فوکسکون" نے مارچ میں 1.31 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز برآمد کیے، جو کہ ایک ماہ میں اس کی اب تک کی سب سے بڑی برآمد ہے۔ یہ جنوری اور فروری کی مجموعی برآمدات کے برابر ہے۔
ان برآمدات میں ایپل کے ماڈلز آئی فون 13، 14، 16، اور 16 ای شامل تھے جس کے باعث رواں سال بھارت سے امریکہ کو "فوکسکون" کی برآمدات کی مجموعی مالیت 5.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
ایپل کی ایک اور سپلائر کمپنی "ٹاٹا الیکٹرانکس" کی برآمدات مارچ میں 61.2 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ گذشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 63 فی صد زیادہ ہیں، اور ان میں آئی فون 15 اور 16 کے ماڈلز شامل تھے۔
-
ٹیرف کی جنگ میں 'کوئی فاتح' نہیں ہے: جنوب مشرقی ایشیا کے دورے پر شی جن پنگ کا بیان
محصولات کی جنگ کے دور رس اور دیرپا بین الاقوامی اقتصادی نتائج کا امکان
بين الاقوامى -
چین کا امریکی جاسوسوں پر ایشیائی سرمائی کھیلوں کے دوران سائبر حملوں کا الزام
معلومات فراہم کرنے پر انعام کا اعلان
بين الاقوامى -
امریکہ کی جانب سے جنگی امداد پر یوکرین سے ادائیگی کے مطالبات میں نرمی
تخمینہ کم کر کے تقریباً 100 بلین ڈالر کر دیا گیا
بين الاقوامى