ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘ کے نامہ نگار بارک رافیڈ نے جمعہ کے روز ایک پوسٹ میں تین اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل کے سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کل ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت سے قبل امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ملاقات کے لیے پیرس میں موجود ہیں۔
خیال رہے ایرانی ایٹمی پروگرام کے تصفیے کے حوالے سے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات 12 اپریل کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوئے تھے۔ ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی اور ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیون وٹکوف نے اپنے ملک کے وفد کی سربراہی کی تھی ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات تعمیری رہی۔ مذاکرات کا دوسرا دور اٹلی کے شہر روم میں کل ہفتہ 19 اپریل کو ہو رہا ہے۔
جمعہ کے روز ماسکو سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ روم واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا میزبان نہیں ہے۔ بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا میزبان سلطنت عمان ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ میزبان ملک جہاں بھی طے کرے گا ہم اس مقام پرہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ثالثی پیغامات پہنچانے اور بالواسطہ رابطے کا انتظام عمانی وزیر خارجہ اور ان کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ ہفتے کو روم جائیں گے اور ہم بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور شروع کریں گے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین، روس اور ایران کے ساتھ قریبی یا دور دراز تعلقات رکھنے والے تمام ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے ٹرمپ نے 2018 میں اپنی پہلی مدت کے دوران یک طرفہ طور پر 2015 کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی اور تہران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ امریکہ معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع ہوگیا تھا۔