چین کے صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تجارتی محصولات (ٹیرف) کثیر جہتی عالمی تجارتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج بدھ کے روز بیجنگ میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ملاقات کے دوران کہی۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی "شینخوا" کے مطابق صدر نے کہا کہ محصولات اور تجارتی جنگیں "تمام ممالک کے جائز حقوق و مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں، کثیر جہتی تجارتی نظام کو کمزور کرتی ہیں اور عالمی اقتصادی نظام پر منفی اثر ڈالتی ہیں"۔
واضح رہے کہ امریکہ نے چین سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 145 فی صد اضافی ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ اس کے جواب میں چین نے بھی امریکہ سے درآمدی اشیاء پر 125 فی صد محصولات لاگو کر دیں۔
دوسری جانب چینی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز برطانیہ اور یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کے لیے تعاون کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان شدید تجارتی جنگ جاری ہے۔
اس کے برعکس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ چین پر عائد کی گئی 145 فی صد اضافی محصولات "انتہائی بلند" ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ "ان میں نمایاں طور پر کمی کی جائے گی"۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ محصولات "اس سطح پر زیادہ دیر تک نہیں رہیں گی" لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ "یہ مکمل طور پر ختم نہیں کی جائیں گی"۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی منگل کے روز واشنگٹن میں منعقد ہونے والے ایک بند کمرے کے اجلاس میں کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کا موجودہ ماحول دونوں ممالک کے لیے "ناقابل برداشت" ہے۔ یہ اجلاس "جے پی مورگن چیس" بینک کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ یہ بات اجلاس میں شریک ایک شخص نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتائی۔