انڈونیشیا 'برکس' میں شامل ہو گیا، انڈونیشین وزیر خارجہ کی اجلاس میں بطور رکن شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سیگیانو 'برکس اجلاس ' میں بطور ممبر انڈونیشیا کی نمائندگی کریں گے۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس پلیٹ فارم کا یہ اجلاس پیر کے روز ہوگا۔

انڈونیشیا کی وزرائے خارجہ کے اس اجلاس میں پہلی بار شرکت ہوگی۔

اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ اس ابھرتی ہوئی معیشتوں کے پلیٹ فارم کی 'جیو پولیٹیکل فارم' کا اسی سال انڈونیشیا بھی باضابطہ رکن بن جائے گا۔ اس پلیٹ فارم میں ابتدائی طور پر جو ملک شامل ہوئے تھے ان میں برازیل ، روس ، بھارت، چائنہ ، جنوبی افریقہ شامل تھے۔

بعد ازاں اس گروپ میں وسعت آنے کے ساتھ مصر ، ایران ، متحدہ عرب امارات ، ایتھوپیا اور اب جرمنی بھی شامل ہوگیا ہے۔

یہ مغربی دنیا کے علاوہ تشکیل پانے والا بین الاقوامی مقابلتاً زیادہ مؤثر فورم کے طور پر ابھرا ہے۔ جو دنیا کی 48 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے اور جس میں 3 جوہری طاقتیں بھی شامل ہیں۔ جبکہ دنیا کی 37 فیصد معیشت اور وسائل ان ملکوں کے پاس ہیں۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ 'برکس' کے تعمیری کردار اور امن کے برقرار رکھنے میں مزید مؤثر ہونے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں گے اور فورم کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کریں گے۔

تاکہ عالمی سطح پر انسانی اقدار اور باہمی اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ بقائے باہمی کو فروغ مل سکے۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کا اس امر پر بھی فوکس ہوگا کہ مختلف اور کتیر طرفہ اداروں ، شراکت داری ، شفافیت اور ذمہ دارانہ انداز کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر پائے جانے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ یاد رہے ان دنوں 'برکس' کی صدارت برازیل کے پاس ہے اور رواں سال کا 'برکس' کا تھیم 'دنیا کے جنوبی حصے میں مؤثر حکومتی اور شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔'

وزرائے خارجہ کے اس دو روزہ اجلاس میں برکس کے ماہ جولائی میں متوقع سربراہی اجلاس کی تیاری اور ایجنڈے پر بھی کام کیا جائے گا اور اس کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

'برکس' وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تقریبا 3 ماہ کے بعد ہو رہا ہے جس میں ٹیرف کے لیے جاری ماحول ایک اہم ایشو بن سکتا ہے اور اس معاملے کو بھی دیکھے جانے کا امکان ہے کہ چین کی درآمدات پر پڑنے والے ٹیرف کے اثرات کو بھی دیکھا جائے اور باقی رکن ممالک پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے۔

خیال رہے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے انڈونیشیا کی برآمدات پر 47 فیصد ٹیرف کا نفاذ کیا ہے۔ جس سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔

جکارتہ میں قائم ایک تھنک ٹینک کے مطابق 'برکس' کے ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ٹیرف کا معاملہ اور رکن ممالک کی معیشتوں پر امریکی ٹیرف کی بڑھی ہوئی شرح کا جائزہ لینا ایجنڈے میں اہم ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ 'برکس' ممالک ٹیرف کے حوالے سے امریکہ کو اجتماعی طور پر اپنا رسپانس دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں