عراقجی کا روبیو کو جواب: یورینیم کی افزودگی کا 'پورا حق' حاصل ہے

ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ یورینیم کی مقامی افزودگی کی بجائے اسے برآمد کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے کہا کہ ان کے ملک کو ایک مکمل جوہری ایندھن کا عمل رکھنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے متعدد رکن ممالک جوہری ہتھیاروں کو مسترد کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یورینیم کی افزودگی میں مصروف ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس میں روبیو نے ایران کو یورینیم کی افزودگی سے روکنے پر زور دیا تھا جبکہ اسے بیرون ملک سے درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

عراقجی نے کہا، "این پی ٹی کے کئی ارکان ہیں جو جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے باوجود یورینیم افزودہ کرتے ہیں۔"

این پی ٹی کے تحت معاہدے پر دستخط کرنے والی تمام ریاستیں اپنے جوہری ذخائر کا اعلان کرنے اور انہیں اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں رکھنے کی پابند ہیں۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کا الزام لگاتے رہے ہیں جبکہ تہران اس کی تردید اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف شہری اور پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران اور امریکہ 12 اپریل سے جوہری مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 2018 میں واشنگٹن یک طرفہ طور پر تہران کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کا یہ اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ ہے۔

ثالث عمان نے اس ہفتے کے شروع میں "لاجسٹک وجوہات" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی طور پر ہفتہ کو طے شدہ بات چیت کا چوتھا دور ملتوی کر دیا گیا۔

جمعرات کو فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر زور دیا کہ وہ افزودگی سے دستبردار ہو جائے اور کہا، "دنیا میں صرف وہ ممالک یورینیم کی افزودگی کرتے ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔"

ایران اس وقت یورینیم کو 60 فیصد خالص حد تک افزودہ کرتا ہے۔ یہ 2015 میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں طے شدہ 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے لیکن ہتھیاروں کے درجے کے مواد کے لیے درکار 90 فیصد سے کم ہے۔

یہ ذخیرہ مغربی طاقتوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

پیر کے روز فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نول باروٹ نے کہا، "اگر تہران کے اقدامات سے یورپی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لگائی جا سکتی ہیں۔"

ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کے دستخطی فرانس کے تبصروں کو "صرف مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

عراقچی پہلے بھی ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق کو "ناقابلِ گفت و شنید" قرار دے چکے ہیں۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے بدھ کے روز کہا، افزودہ مواد کو "آسانی سے تحلیل کیا" یا "ایران سے باہر بھیجا جا سکتا" ہے۔

گذشتہ ماہ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے افزودہ مواد کی منتقلی کو "سرخ لکیر" قرار دیا تھا۔

روبیو نے کہا، ایران کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینی چاہیے جن میں امریکی ماہرین شامل ہوں۔

انہوں نے تہران سے یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور فوجی صلاحیتوں پر مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے تہران نے اصرار کیا ہے کہ واشنگٹن سے مذاکرات کا مرکز صرف جوہری مسئلہ اور پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ایک قابلِ اعتماد معاہدہ ہونا چاہیے جو "ایران کی جوہری ہتھیاروں کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت کو ختم" اور بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کو روک دے۔

عراقچی نے نیتن یاہو پر امریکی پالیسی پر "اپنی مرضی چلانے" کا الزام لگاتے ہوئے جواب دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں