استنبول میں ترک اپوزیشن لیڈر پر حملہ، سیاست دانوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ترکیہ کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کے رہنما پر حملہ کیا گیا ہے جب وہ اتوار کو استنبول میں ایک یادگاری تقریب سے باہر نکل رہے تھے۔

ٹیلیویژن فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ریپبلکن پیپلز پارٹی یا سی ایچ پی کے سربراہ اوزگور اوزیل شہر کے وسط میں اتاترک کلچرل سینٹر سے نکل رہے تھے جب ایک سفید بالوں والا شخص ان کے قریب آیا اور کھلا ہاتھ ان کے چہرے پر دے مارا۔

استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اوزیل جو ہفتے کے روز فوت ہونے والے کرد نواز سیاست دان سری سوریا اونڈر کی یادگاری تقریب میں شریک تھے، انہیں کوئی زخم نہیں آیا۔

اس واقعے نے ترکی میں سیاست دانوں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات تازہ کر دیئے ہیں۔ 2019 میں انقرہ صوبے میں ایک فوجی کے جنازے میں شرکت کے دوران اوزیل کے پیشرو کمال کلیک دار اوغلو پر حملہ ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں