جسمانی حرکت میں کمی سگریٹ نوشی کے مساوی صحت کا خطرہ ہے : طبی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انسانی زندگی میں ورزش کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، یہاں تک کہ ایک نئی تحقیق نے اسے نظر انداز کرنے کے خطرات پر سخت تنبیہ کی ہے۔

سگریٹ نوشی کے مترادف

نیویارک یونیورسٹی کے لانگون میڈیکل سینٹر سے وابستہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر اسٹیفن ولیمز نے خبردار کیا ہے کہ جسمانی حرکت میں کمی ایک ایسا صحت کا خطرہ ہے جو سگریٹ نوشی کے برابر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض کھڑے رہنا یا سارا دن پیروں پر گزارنا جسمانی سرگرمی نہیں کہلاتا۔

ڈاکٹر ولیمز کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے مؤثر جسمانی سرگرمی ضروری ہے، جس میں جسم کو باقاعدگی سے حرکت دینا شامل ہو۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ورزش وزن میں توازن، فشار خون میں کمی، دل اور ہڈیوں کی صحت میں بہتری میں معاون ہے۔ ساتھ ہی یہ ذہنی حالت کو بہتر بناتی ہے اور بے چینی و ڈپریشن میں کمی لاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ غیر متحرک طرزِ زندگی کو اب "نئی سگریٹ نوشی" سمجھا جا رہا ہے۔

صحت کے لیے خطرہ

اسی تناظر میں فٹنس کے ماہر بین گرین فیلڈ نے کہا کہ جسم کو 60 سے 90 منٹ تک ایک ہی حالت میں رکھنا، خواہ بیٹھ کر ہو یا کھڑے ہو کر، صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں روزمرہ کی زندگی میں حرکت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے، جیسے ہلکی پھلکی ورزش یا دن میں کم از کم 10 سے 15 منٹ تک دل کی دھڑکن کو تیز کرنے والی سرگرمی۔ ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ہر 30 منٹ کے بعد تھوڑا حرکت کرنا طویل بیٹھنے کے منفی اثرات سے بچاتا ہے اور عمومی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں