پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر مقببوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں اپریل کے اواخر میں ہونے والے خونی حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشمکش میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ متعدد مبصرین کے مطابق، چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز جنرل عاصم منیر ملک کی ایک ’’ اہم شخصیت‘‘ ہیں۔
اگرچہ پاکستانی حکومت کے سربراہ نے 6 مئی کو مسلح افواج کو پاکستان پر بھارتی حملوں پر "ردعمل" دینے کا حکم دیا تھا لیکن 1968 میں پیدا ہونے والے اور پس پردہ کام کرنے کے عادی پاکستانی فوجی سربراہ نے اپنی عوامی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔
ٹینک پر نمودار اور نئی دہلی کو انتباہ
مئی کے اوائل میں انہوں نے ایک ٹینک کے اوپر سے لاؤڈ سپیکر استعمال کرتے ہوئے بات کی تو سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی تھی ۔ ٹینک پر کھڑے ہوکر اپنی تقریر میں جنرل عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا اور زور دیا تھا کہ بھارت کی کسی بھی فوجی مہم جوئی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔۔
بعض مبصرین کے مطابق جنرل عاصم منیر کو ایک آرمی چیف کے طور پر غیر روایتی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ان کا تعلق کسی ممتاز فوجی خاندان سے نہیں ہے بلکہ ان کا خاندان تقسیم کے دوران بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ ان کے والد ایک استاد تھے۔
انہوں نے پاکستان کی اعلی ترین ملٹری اکیڈمی نہیں بلکہ آفیسر ٹریننگ سکول کے ذریعے فوج میں شمولیت اختیار کی ہے۔ تاہم انہوں نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور 2016 میں ڈائریکٹر ملٹری انٹیلی جنس بن گئے۔ جنرل عاصم پھر 2018 میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ "دی گارڈین" کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی ایک طاقتور ترین فوجی عہدہ ہے۔
عمران خان سے اختلاف اور کرپشن کے کیسز
جنرل عاصم منیر جب ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو یہیں سے ان کا اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اختلاف اس وقت شروع ہوا جب عاصم منیر نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ عمران خان کی اہلیہ کرپشن کے کیسز میں ملوث ہیں۔ اس پر وزیر اعظم ناراض ہوگئے اور انہوں نے 2019 میں انہیں آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹوا دیا۔ اس سے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اور بااثر جرنیلوں کے درمیان تنازع شروع ہو گیا۔
تاہم عاصر منیر کو بعد میں ایک اور اعلیٰ فوجی عہدہ دے دیا گیا۔ پھر 2022 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں نیا آرمی چیف منتخب کر لیا ۔ اس وقت تک عمران خان عوام کے وسیع حلقوں کو فوج کے خلاف کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ یاد رہے پاکستانی فوج کو کئی دہائیوں سے مضبوط عوامی وفاداری حاصل رہی تھی۔
عمران خان کو جیل بھیجا گیا اور پھر 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کے خلاف دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ محسوس کیا گیا کہ ان دونوں معاملات کے پیچھے جنرل عاصم منیر تھے۔ جنرل عاصم منیر نے فوج سے عمران خان کے تمام وفاداروں کو بھی صاف کر دیا تھا۔
-
اگر بھارت رک جائے تو ہم جارحیت اختیار نہیں کریں گے: نائب وزیر اعظم پاکستان اسحاق ڈار
’انڈین مسلح افواج نے کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے بشرطیکہ پاکستانی ...
پاكستان -
بھارت اور پاکستان نے فوری اور مکمل جنگ بندی کی تصدیق کر دی
انڈیا، پاکستان غیر جانبدار مقام پر وسیع مسائل پر بات کریں گے: امریکی وزیر خارجہ
پاكستان -
پاکستان سرحد پر فوجیں بڑھا رہا ہے: بھارت
بھارتی کارروائیوں سے آزاد کشمیر میں 13 افراد جاں بحق اور50 زخمی ہوئے ہیں: ...
بين الاقوامى