’ہالی ووڈ ستارے کانز میں خاموش نہ رہ سکے‘، غزہ کی نسل کشی پر بھرپور آواز بلند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

'کانز فلمی میلے' کے افتتاح کے موقع پر فلمی میلے کے منتظمین پر سینکڑوں اہم سینما گھروں سے متعلق شخصیات نے زور دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں کی گئی ناکہ بندی کے خلاف اظہار مذمت کریں۔

خط کے مندرجات میں 'اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہیں۔' سینکڑوں فرانسیی سینماؤں سے متعلق افراد نے اس دباؤ کا اظہار فلمی میلے کے منتظمین کے نام لکھے گئے ایک خط میں کیا ہے۔

میلے میں فلموں میں کام کرنے والے اور فلموں سے متعلق 380 معروف شخصیات حصہ لے رہی ہیں۔

'شیندلر لسٹ' میں شامل اداکار رالف فینس سمیت کینز میں فلمی میلوں میں مقابلے جیتنے والے چار سابق ہدایات کار بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے لکھا ہے کہ وہ فرانس کی فلمی صنعت کی طرف سے بے حسی ظاہر کرنے پر شرمندہ ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا ہے 'غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔'

خط پر دستخط کرنے والوں میں ہالی ووڈ کے فلمی ستارے رچرڈ گیئر، سوس سارنڈن، ہسپانیہ سے تعلق رکھنے والے فلم ڈائریکٹر پیڈرو الموڈوور اور کینز کے سابق فاتحین روبن آسٹرنڈ مائیک لی کے ساتھ ساتھ کوسٹا گاوراس بھی شامل ہیں۔

خط میں ان تمام شخصیات نے غزہ کی ایک فوٹو جرنلسٹ فاطمہ حسنیٰ کی جنگ کے دوران ہلاکت پر مذمت کی۔ 25 سالہ فاطمہ حسنیٰ نے ایک معروف دستاویزی فلم 'اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر چلو' تیار کی تھی۔ جنہیں پچھلے ماہ غزہ کے شمالی حصے میں ان کے گھر پر اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے خاندان کے 10 افراد سمیت قتل کر دیا تھا۔

'کانز فلمی میلے' کے منتطمین سے خط میں زور دے کر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کے طویل ترین جاری محاصرے کی مذمت کریں کیونکہ ایک حالیہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ غزہ کے لوگ قحط کے سنگین خطرے کی زد میں ہیں۔

76 سالہ اداکار جنہوں نے 200 سے زائد فلموں میں کام کرنے کے علاوہ ٹی وی سیریز میں کام کیا ہے بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔

کانز فلمی میلے کے ڈائرکٹر تھیری فریموکس نے اس لکھے گئے خط کے متن اور مطالبے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں