پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحد غلطی سے پار کرنے والے فوجی قیدیوں کا تبادلہ
پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز پاکستان نے بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے اس جوان کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا، جسے پہلگام حملے کے ایک روز بعد پاکستانی رینجرز نے پکڑا تھا۔ ادھر بھارت نے بھی پاکستانی رینجرز کے ایک اہلکار کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا۔
بھارتی نیم فوجی دستوں بی ایس ایف نے آج بدھ کو ایک بیان میں کہا، ''آج بی ایس ایف جوان پرنم کمار شا، جو 23 اپریل 2025 سے پاکستان رینجرز کی تحویل میں تھے، کو تقریباً دن ساڑھے دس بجے جوائنٹ چیک پوسٹ اٹاری، امرتسر کے ذریعے بھارت کے حوالے کیا گیا۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا، ''حوالگی پرامن طریقے سے اور مسلمہ پروٹوکول کے مطابق کی گئی۔‘‘
بھارتی حکام کے مطابق پنجاب کے فیروز پور میں تعینات 40 سالہ بی ایس ایف جوان نے جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہلاکت خیز حملے کے ایک دن بعد 23 اپریل کو نادانستہ طور پر سرحد پار کر لی تھی۔ اس حملے کی وجہ سے سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی تھی اور ان کی واپسی میں تاخیر ہوئی۔ پرنم کمار شا جب پاکستان میں داخل ہوئے تو اپنی وردی میں تھے اور اپنی سروس رائفل اٹھائے ہوئے تھے۔
پاکستان میں حراست میں لیے جانے کے چند دن بعد، شا کی حاملہ بیوی رجنی، ان کے سات سالہ بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد نے بھارتی فوج کے حکام سے ملاقات کی تھی اور شا کی جلد رہائی میں مدد کی اپیل کی تھی۔ چالیس سالہ شا کا تعلق مغربی بنگال کے ہوگلی ضلع سے ہے۔
ادھر دوسری جانب پنجاب رینجرز کے اہلکار محمد اللہ، جنہیں انڈین حکام نے گذشتہ ماہ حراست میں لیا تھا۔ انہیں آج پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق، محمد اللہ کو انڈین پنجاب میں غلطی سے سرحد پار کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد اللہ تقریباً دو ہفتے سے بھارتی فوج کی حراست میں تھے۔ انہیں راجستھان کے سری گنگا نگر ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے پاس سے بی ایس ایف نے پکڑا تھا۔
دو مزید زخمی پاکستانی فوجی جاں بحق
دریں اثنا حالیہ بھارتی جارحیت کے دوران زخمی ہونے والے افواج پاکستان کے مزید دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے، بھارتی حملوں میں جان سے جانے والے جوانوں کی مجموعی تعداد 13 ہوگئی جبکہ 78 اہلکار زخمی ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق چھ اور سات مئی کو شروع کی گئی بھارتی مسلح افواج کی کھلی اور بزدلانہ جارحیت نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، اور بزرگ بھی شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق "وطنِ عزیز کا دفاع کرتے ہوئے بے مثال جرأت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کرنے والے دو مزید بہادر سپوت آج جامِ شہادت نوش کر گئے، جو زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج تھے، اس طرح شہدائے پاک فوج کی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ 78 جوان زخمی ہو چکے ہیں۔"
آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا میں پاک فوج کے حوالدار محمد نوید اور پاک فضائیہ کےسینئر ٹیکنیشن محمد ایاز شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا کی عظیم قربانی ان کے حوصلے، فرض سے وفاداری، اور غیر متزلزل حب الوطنی کی ہمیشہ رہنے والی علامت ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج قوم کے ساتھ مل کر ان عظیم شہدا کو اعلیٰ ترین خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں اور غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تمام زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں’۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ قربانیاں قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے جرات اور قربانی کی روشن مثال بنی رہیں گی۔