سابق امریکی صدر جو بائیڈن پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا، ٹرمپ کا اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سابق امریکی صدر جو بائیڈن میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جو ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔

ان کے دفتر کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق گذشتہ ہفتے 82 سالہ جو بائیڈن نے پیشاب میں تکلیف کی شکایت پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جس کے بعد جمعے کو ان میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔

کینسر کی یہ قسم خاصی تیز رفتاری سے پھیلنے والی اور شدید نوعیت کی ہے جسے گلیسن سکور میں 10 میں سے 9 قرار دیا گیا ہے۔ کینسر ریسرچ یوکے کے مطابق، یہ ’ہائی گریڈ‘ کینسر ہے، یعنی یہ خلیے تیزی سے جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتے ہیں۔

ان کے اہل خانہ اس وقت ممکنہ علاج کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ کینسر کی یہ قسم ایسی ہے جس پر کچھ خاص دوائیں یا علاج (جو ہارمونز کو کنٹرول کرتے ہیں) اثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹروں کو امید ہے کہ اسے روکا یا قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے تقریباً ایک سال قبل سابق صدر کو صحت اور عمر سے متعلق خدشات کے باعث 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب کی دوڑ سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ جو بائیڈن جنوری 2021 سے جنوری 2025 تک امریکی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جو امریکی تاریخ کے سب سے معمر صدر ہیں۔

ادھر دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن کی صحت کے بارے میں اطلاع ملنے پر ٹروتھ سوشل پر لکھا: "جو بائیڈن کے طبی معائنے کے بارے میں سن کر میلانیا اور مجھے دکھ ہوا ہے۔ ہماری ہمدردیاں جل اور پورے بائئیڈن خاندان کے ساتھ ہیں۔" صدر ٹرمپ نے جو بئیڈن کی جلد صحت یابی کی خواہش بھی ظاہر کی۔

کلیولینڈ کلینک کے مطابق پروسٹیٹ کینسر مردوں میں جلد کے کینسر کے بعد دوسرا سب سے عام کینسر ہے۔ امریکہ کے ادارہ برائے تدارک امراض (سی ڈی سی) کا کہنا ہے کہ ہر 100 میں سے 13 مردوں کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق پروسٹیٹ کینسر کا سب سے بڑا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں