سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو گزشتہ ہفتے تک زندگی میں کبھی پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص نہیں ہوئی تھی، حالاں کہ انھوں نے اس مرض کا آخری مرتبہ ٹیسٹ 2014 میں کروایا تھا۔ یہ بات منگل کے روز ان کے ترجمان نے امریکی نیٹ ورک "این بی سی" کو بتائی۔
ترجمان کے مطابق "صدر بائیڈن کا پی ایس اے (PSA) ٹیسٹ آخری مرتبہ 2014 میں ہوا تھا۔ جمعے سے پہلے، ان میں کبھی بھی پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص نہیں ہوئی۔"
واضح رہے کہ پروسٹیٹ کینسر کی جانچ عام طور پر PSA یعنی "پروسٹیٹ اسپیشل اینٹی جن" ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے، جو پروسٹیٹ سے پیدا ہونے والے پروٹین کی سطح کی پیمائش کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ بعض اوقات غلط مثبت نتائج دے سکتا ہے۔ اسی لیے امریکی ادارہ برائے حفاظتی خدمات مردوں کو 70 برس کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ کرانے کی سفارش نہیں کرتا، کیوں کہ اس عمر میں دیگر طبی وجوہات سے موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
بیاسی سالہ بائیڈن نے یہ ٹیسٹ آخری مرتبہ 11 سال قبل کروایا تھا، جب کہ 78 سالہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس PSA ٹیسٹ کروایا ہے، جس کی تفصیلات وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ طبی ریکارڈز میں موجود ہیں۔
اتوار کو بائیڈن کی بیماری کا انکشاف ہونے کے بعد یہ سوالات اٹھنے لگے کہ آیا یہ کینسر حال ہی میں پھیلا ہے یا پھر ان کی صدارت کے دوران اس کی تشخیص نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر پہنچنے والا پروسٹیٹ کینسر اگرچہ نایاب ہے، مگر ممکن ضرور ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بائیڈن کے کینسر نے ایک جارحانہ صورت اختیار کر لی ہے، جو قابل علاج تو ہے، لیکن مکمل طور پر قابل شفا نہیں۔
ڈاکٹر ایزیکیل ایمانوئیل، جو بائیڈن کے معالج نہیں ہیں لیکن کووِڈ عبوری مشاورتی کونسل کے رکن رہے ہیں، نے پیر کے روز MSNBC کے پروگرام "Morning Joe" میں کہا کہ "یہ کینسر غالباً کئی برسوں سے بڑھ رہا تھا۔"
امریکی کینسر سوسائٹی کے چیف سائنسی افسر ڈاکٹر ولیم ڈاہوٹ نے "این بی سی نیوز" کو بتایا کہ "ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ بائیڈن کئی سالوں سے پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا تھے۔"
البتہ بعض ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نادر مواقع پر کینسر کی خاص خطرناک قسم بہت تیزی سے بڑھتی اور پھیلتی ہے، جو جلدی تشخیص کے بغیر خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔