واشنگٹن میں فائرنگ، اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں فائرنگ سے اسرائیلی سفارتی عملے دو ارکان ہلاک ہو گئے، امریکی سکیورٹی چیف نے اسرائیلی سفارتی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی، پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا، جس نے گرفتاری کے بعد ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے۔

برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کی رپورٹ کے مطابق بدھ کی رات واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل یہودی میوزیم میں منعقدہ ایک تقریب کے باہر فائرنگ کے واقعے میں اسرائیلی سفارت خانے کے عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے جبکہ حکام و میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک مرد اور ایک خاتون کو تھرڈ اور ایف اسٹریٹس، نارتھ ویسٹ کے علاقے میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا، یہ علاقہ یہودی میوزیم، ایف بی آئی فیلڈ آفس اور امریکی اٹارنی آفس کے قریب واقع ہے۔

واشنگٹن پولیس چیف پامیلا اسمتھ نے بتایا کہ تقریب سے پہلے میوزیم کے باہر چہل قدمی کرنے والے ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملزم حراست میں ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔

واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان تل نائیم کوہن ہیں نے بتایا کہ سفارت خانے کے عملے کے دو افراد کو میوزیم میں ایک یہودی تقریب کے دوران قریب سے گولی ماری گئی۔

اسرائیلی سفارت خانے نے حملہ آور، متاثرین یا حملے کے محرک کے بارے میں سوالات کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

امریکی سکیورٹی چیف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے، دونوں اسرائیلی سفارت خانے کے عملے کے رکن تھے۔

امریکہ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کے مطابق بدھ کی شام واشنگٹن میں واقع اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین کو ایک میوزیم کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کرسٹی نوم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ان اموات کا اعلان کیا، جو کیپیٹل یہودی میوزیم کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں۔

اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے کہا کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود تھیں، جہاں ان کے ساتھ سابق جج جینین پیرو بھی موجود تھیں، جو واشنگٹن میں امریکی اٹارنی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے اس واقعے کو ’یہود مخالف دہشت گردی کا ایک گھناؤنا فعل‘ قرار دیا۔ڈینی ڈینون نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ’ہمیں یقین ہے کہ امریکی حکام اس مجرمانہ فعل کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل اپنے شہریوں اور نمائندوں کی حفاظت کے لیے دنیا بھر میں پرعزم انداز میں کام کرتا رہے گا۔‘ بدھ کی رات دیر گئے تک پولیس نے فائرنگ کے محرک کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ سفارتی عملے کے دو افراد کو میوزیم کی تقریب کے دوران قریب سے گولی ماری گئی۔

ترجمان تال نائیم کوہن نے کہا کہ ’ہم مقامی اور وفاقی دونوں سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ حملہ آور کو گرفتار کریں گے اور امریکا بھر میں اسرائیلی نمائندوں اور یہودی برادریوں کی حفاظت کریں گے‘۔ امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے وقت اسرائیل کے سفیر میوزیم کی تقریب میں موجود نہیں تھے۔

سی بی ایس کے ذرائع کے مطابق مشتبہ شخص گھنی مونچھوں والا ایک مرد ہے جو نیلی جینز اور نیلی جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں