امریکہ میں یہودی میوزیم پر فائرنگ میں ملوث شخص کے بارے میں مزید معلومات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں جمعرات کو یہودی میوزیم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے مشتبہ حملہ آور کے بارے میں اہم معلومات جاری کی ہیں۔

حملہ آور کی شناخت الیاس روڈریگیز کے نام سے ہوئی ہے جو ایک مؤرخ، محقق اور کہانی نویس ہے۔ وہ معروف تحقیقی ادارے "دی ہسٹری میکرز" سے وابستہ ہے جہاں وہ امریکی معاشرے کی نمایاں شخصیات پر تحقیق کرتا اور تفصیلی سوانحی خاکے مرتب کرتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق الیاس روڈریگیز نے شکاگو الی نوائے میں جنم لیا اور وہیں پرورش پائی۔ اس نے یونیورسٹی آف الی نوائے شکاگو سے انگریزی ادب میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

سنہ 2023ء میں "دی ہسٹری میکرز" سے وابستہ ہونے سے قبل وہ مختلف تجارتی اور غیر تجارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مواد نویسی کر چکا ہے۔

روڈریگیز کے بارے میں مزید معلوم ہوا ہے کہ اسے تخیلاتی کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا شوق ہے۔ وہ موسیقی سننے، فلمیں دیکھنے اور نئی جگہوں کی تلاش میں دلچسپی رکھتا ہے۔ العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق وہ شکاگو کے ایوون ڈیل علاقے میں رہائش پذیر ہے اور اس کی عمر 30 برس ہے۔

ادھر واشنگٹن پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت حملہ آور نے "فلسطین کو آزادی دو" کا نعرہ لگایا۔ پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ شخص کا تعلق شکاگو سے ہے، اُسے گرفتار کر کے اسلحہ تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔

اسرائیلی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں اس کے دو ملازمین ہلاک ہوئے ہیں، جو میوزیم میں جاری ایک تقریب میں شریک تھے۔ سفارت خانے نے وفاقی اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی حکومت کی یہودی کمیونٹی کے تحفظ کی صلاحیت پر یقین رکھتا ہے۔

ہلاک ہونے والے دونوں اہلکار "امریکن جیوش کمیٹی" کے زیر اہتمام تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں