واشنگٹن ڈی سی میں بدھ کی شب ایک تقریب کے دوران یہودی میوزیم کے باہر فائرنگ کے واقعے میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔ حملہ آور کی شناخت 30 سالہ ایلیاس روڈریگز کے طور پر ہوئی ہے، جو شکاگو کا رہائشی ہے۔ واقعے کے بعد روڈریگز نے "فلسطین کو آزاد کرو" اور "میں نے یہ غزہ کے لیے کیا" جیسے نعرے لگائے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے خود کو ایک گواہ کے طور پر پیش کیا اور پولیس کے آنے کا انتظار کیا۔ پولیس کے پہنچنے پر اس نے جرم کا اعتراف کیا۔
ہلاک ہونے والے اہلکار یارون لیشنسکی اور سارہ ملگرم ایک جوڑا تھے جو جلد منگنی کرنے والے تھے۔ دونوں اسرائیلی سفارت خانے میں کام کرتے تھے اور تقریب میں شرکت کے بعد میوزیم سے باہر نکل رہے تھے جب حملہ ہوا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس واقعے کو "یہود دشمنی پر مبنی دہشت گردی" قرار دیا اور دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتی مشنز کی سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا۔
یہودی میوزیم کے باہر فائرنگ، حملہ آور نے خود کو چشم دید گواہ ظاہر کیا
عینی شاہد سارہ مارینوزی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ حملہ آور نے خود کو ایک گواہ کے طور پر پیش کیا اور پولیس کے پہنچنے کا انتظار کرتا رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے بعد وہ دوڑتا ہوا سکیورٹی مرکز پہنچا، جہاں عملے نے اسے پانی دیا اور سمجھا کہ وہ واقعے کا گواہ ہے۔
28 سالہ سارہ نے مزید بتایا کہ واقعہ رات 9 بجے کے قریب پیش آیا اور کچھ ہی دیر بعد مزید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ حملہ آور نے سکیورٹی سے خود پولیس کو بلانے کی درخواست کی اور جیسے ہی پولیس موقع پر پہنچی اس نے خود کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا: "میں نے یہ کیا، میں نے یہ غزہ کے لیے کیا۔ فلسطین کو آزاد کرو!"۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق،حملہ آور نے میوزیم کی عمارت میں داخلے کی کوشش سے قبل ایک مرد اور خاتون پر گولی چلائی۔ حملہ آور کی شناخت 30 سالہ ایلیاس روڈریگز کے طور پر ہوئی ہے جو شکاگو کا رہائشی ہے۔ اس نے قریبی فاصلے سے فائرنگ کی۔
اسرائیلی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ سے ان کے دو ملازمین جاں بحق ہوئے ہیں، جو یہودی میوزیم میں جاری ایک تقریب میں شریک تھے۔ سفارت خانے نے امریکی وفاقی حکام پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہودی برادری کو تحفظ فراہم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ تقریب امریکن جیوش کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی تھی، جس کی تصدیق تنظیم کے سربراہ ٹیڈ ڈوئچ نے بھی کی۔
امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک خوفناک جرم ہے، جس کی بنیاد یہود دشمنی پر ہے۔ اپنے سوشل پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ: "واشنگٹن میں ہونے والے یہ سنگین جرائم جو کہ کھلی یہود دشمنی کا نتیجہ ہیں، فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ امریکہ میں نفرت اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔"