نیند کے وہ اوقات جو دل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں
اگر محض تین راتوں تک نیند مسلسل منقطع رہے اور ہر رات صرف چار گھنٹے سویا جائے، تو یہ خون میں ایسی خطرناک تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے جو دل اور شریانوں کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر دیتی ہیں
یہ بات عام طور پر تسلیم شدہ ہے کہ پرسکون اور مکمل نیند انسان کی مجموعی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
سائنسی تحقیقات اور طبی مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی میں نیند کی ایک متعین اور متوازن مدت ضروری ہے، جو جسمانی، ذہنی اور قلبی صحت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر یہ نیند مناسب وقت تک لی جائے تو نہ صرف صحت بہتر رہتی ہے بلکہ دل کے دورے اور دماغی فالج جیسے خطرناک امراض کے امکانات بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔
سوئیڈن کی اپسالا یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق نے نیند کی کمی اور امراضِ قلب کے درمیان ایک تشویشناک تعلق کا انکشاف کیا ہے۔
محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر محض تین راتوں تک نیند مسلسل منقطع رہے اور ہر رات صرف چار گھنٹے سویا جائے، تو یہ خون میں ایسی خطرناک تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے جو دل اور شریانوں کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر دیتی ہیں۔
دل کی بیماریوں اور کورونری شریانوں کے خطرات
برطانوی اخبار "انڈیپنڈنٹ" میں شائع ایک جامع تحقیق کے مطابق، جس کا اطلاق 16 صحت مند نوجوانوں پر کیا گیا، محققین نے نیند کی کمی کے بعد خون میں سوزش سے متعلق پروٹینز کی سطح میں نمایاں اضافہ دیکھا، جو دل کی بیماریوں اور شریانوں کے مسائل کے بڑھنے کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ پروٹینز جسم کا وہ فطری ردعمل ہیں، جو عام طور پر تناؤ یا بیماریوں سے لڑنے کے لیے بنتے ہیں، اگر یہ طویل مدت تک بلند سطح پر رہیں تو سنگین خطرے کی علامت بن جاتے ہیں۔ یہ خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دل کی کمزوری، کورونری شریانوں کی بیماریاں اور دل کی دھڑکن کے بے ترتیبی جیسے مسائل کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ منفی اثرات صرف چند راتوں کی ناکافی نیند کے بعد بھی صحت مند نوجوانوں میں واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔
محققین نے یہ بھی بتایا ہے:کہ اگر جسم کو مناسب نیند نہ ملے تو ورزش کے عام فائدے کم ہو جاتے ہیں۔ نیند کی کمی کی وجہ سے وہ صحت مند پروٹینز جیسے "انٹیرلوکین"اور "برین ڈیرائیوڈ نیورو ٹروفک فیکٹر" (BDNF) کی سطح کمزور ہو جاتی ہے، جو دل اور دماغ کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
اور یہی نہیں، بلکہ تحقیقاتی ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ خون کے نمونے لینے کا وقت نتائج پر بہت اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ نیند کی کمی کی حالت میں صبح اور شام کے اوقات میں پروٹین کی سطح میں فرق زیادہ واضح نظر آیا۔
یہ دریافت ہمارے جسم کی حیاتیاتی گھڑی اور اس کے پیچیدہ کیمیائی عمل کے درمیان گہرے تعلق کو واضح کرتی ہے۔
یہ تحقیق ایک وارننگ کی حیثیت رکھتی ہے کہ نیند کی قربانی دے کر کام کرنا یا اسکرین کے سامنے دیر تک جاگنا ہمارے جسم پر بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ نیند صرف آرام کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت مند اور طویل زندگی کی بنیاد ہے۔