ٹرمپ کی جانب سے ہارورڈ میں غیر ملکی طلباء پر پابندی کا دفاع

غیر ملکی طلباء اپنی تعلیم کے لیے کچھ ادا نہیں کرتے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی جانب سے اتوار کے روز ہارورڈ میں غیر ملکی طلباء پر پابندی کے اقدام کا دفاع کیا۔ قبل ازیں ایک جج نے اس کارروائی کو معطل کر دیا جسے اشرافیہ یونیورسٹی نے مقدمے میں غیر قانونی قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر پوسٹ کیا، "ہارورڈ یہ کیوں نہیں کہہ رہا ہے کہ ان کے تقریباً 31 فیصد طلباء غیر ملکی ہیں اور پھر بھی وہ ممالک جن میں سے بعض امریکہ کے لیے بالکل بھی دوستانہ نہیں ہیں، اپنے طلباء کی تعلیم کے لیے کچھ ادا نہیں کرتے اور نہ ہی وہ کبھی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "چونکہ ہم ہارورڈ کو اربوں ڈالر دیتے ہیں تو ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ غیر ملکی طلباء کون ہیں۔ یہ ایک معقول درخواست ہے لیکن ہارورڈ تعاون کرنے پر بالکل آمادہ نہیں ہے۔"

محکمہ داخلی سلامتی کی سکریٹری کرسٹی نوم نے جمعرات کو ہارورڈ کی غیر ملکی شہریوں کے اندراج کی اہلیت منسوخ کر دی جس سے ہزاروں طلباء کا مستقبل اور ان کے ذریعے ملنے والی منافع بخش آمدنی شکوک کا شکار ہو گئی ہے۔

انہوں نے گذشتہ ماہ دھمکی دی تھی کہ وہ بین الاقوامی طلباء کے سکول میں داخلے پر پابندی لگا دیں گی جب تک کہ وہ ویزا ہولڈرز کی "غیر قانونی اور پرتشدد سرگرمیوں" کے ریکارڈ انہیں فراہم نہ کرے۔

لیکن جب یونیورسٹی نے "حکومت کی آمرانہ، غیر قانونی اور غیر آئینی کارروائی کو روکنے کے لیے" مقدمہ دائر کیا تو ایک جج نے اس اقدام کو فوری طور پر معطل کر دیا۔

وائٹ ہاؤس امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف کئی محاذوں پر کریک ڈاؤن کر رہا ہے جس کا یہ جواز پیش کیا گیا ہے کہ بقول ٹرمپ انتظامیہ یہ یہود دشمنی کا ردِ عمل اور تنوع کے پروگراموں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد اقلیتوں کے تاریخی جبر کو دور کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ویزے منسوخ کرنے اور غزہ جنگ کے خلاف مظاہروں میں ملوث غیر ملکی طلباء کو ملک بدر کرنے کا بھی اقدام کیا ہے جن پر فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کی حمایت کا الزام لگایا گیا ہے۔

ہارورڈ میں حکومت نے نو بلین ڈالر کی مالی اعانت پر نظرِ ثانی کرنے کی دھمکی دی ہے، پھر گرانٹس کی 2.2 بلین ڈالر کی پہلی قسط اور 60 ملین ڈالر کے سرکاری معاہدے منجمد کر دیئے۔ اس نے ہارورڈ میڈیکل سکول کے ایک محقق کو بھی ملک بدری کا نشانہ بنایا ہے۔

طلباء کی ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد غیر ملکی شہریوں پر مشتمل ہے جن پر پابندی ہارورڈ کے لئے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ٹیوشن کی مد میں ان سے سالانہ دسیوں ہزار ڈالر وصول کرتی ہے۔

ہارورڈ امریکہ کی امیر ترین یونیورسٹی ہے جس کی 2024 میں 53.2 بلین ڈالر مالیت تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں