چیمپیئنز لیگ کا فائنل دیکھنے کے لیے فٹبال کے دو دیوانے 27 گھنٹے "بیت الخلا" میں چھپے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دو مشہور ٹک ٹاک انفلوئنسروں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے کے روز الیانز ایرینا اسٹیڈیم کے بیت الخلا میں 27 گھنٹے چھپے رہے تاکہ پیرس سینٹ جرمین اور انٹر میلان کے درمیان یورپی فٹبال چیمپیئنز لیگ کا فائنل میچ بغیر ٹکٹ کے دیکھ سکیں۔

بیلجیئم کے اس جوڑے، نیل ریمیری اور سین ہافر پیک، نے وی آر ٹی نیوز کو بتایا کہ وہ میچ سے ایک روز قبل میونخ کے اسٹیڈیم میں داخل ہوئے اور ایک بیت الخلا میں جا کر چھپ گئے۔ انھوں نے دروازے پر "خارج از خدمت" کی تختی لگا دی اور پھر خاموشی سے 27 گھنٹے وہیں بیٹھے رہے، جب کہ اسٹیڈیم کے عملے نے دیگر بیت الخلا استعمال کیے۔

ریمیری نے بیلجیئم کے ریڈیو و ٹی وی ادارے کو بتایا کہ "ہمارے پاس ایک بیگ میں ہلکی پھلکی غذائیں تھیں اور ہم وقت گزاری کے لیے فون پر کھیلتے رہے۔"

اس نے مزید کہا "روشنی مسلسل کھلی رہی، اور ہم بہت غیر آرام دہ حالت میں بیٹھے تھے، اس لیے نیند ممکن نہ تھی"۔
میچ کے دن جب انھوں نے شائقین کی آمد کا شور سنا تو بیت الخلا سے باہر نکل آئے اور ٹکٹ چیکنگ اہل کاروں سے بچتے ہوئے 86,600 شائقین کے ہجوم میں شامل ہو گئے۔

ریمیری نے بتایا "ہم نے دیکھا کہ کون سا سیکیورٹی اہل کار کم توجہ دے رہا ہے۔ ہم فون پر بات کرتے ہوئے اور ہاتھ میں کھانے کے ساتھ چلتے گئے اور اچانک خود کو اسٹیڈیم کے اندر پایا۔"

اس نے مزید کہا "پیرس سینٹ جرمین نے میچ 5-0 سے جیتا، اور ہم جیتنے والی ٹیم کے شائقین کے ساتھ بیٹھے تھے۔ یہ ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت فٹبال میچ تھا۔"

واضح رہے کہ جن شائقین نے قانونی طریقے سے میچ دیکھا، انھوں نے ٹکٹوں کے لیے 90 سے 950 یورو (یعنی 100 سے 1100 امریکی ڈالر) تک ادا کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں