اسرائیلی فوج نے پیر کے روز غزہ کے علاقے جبالیا کے کچھ حصوں میں موجود لوگوں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان علاقوں کو خالی کریں۔ فوج کے ترجمان آفیک ہائی آدرعی نے "ایکس" پر لکھا کہ جبالیا، جبالیا کیمپ، پرانا شہر، اور دیگر مختلف محلے جیسے النهضہ، الروضہ، السلام، النور، التفاح، الدرج، اور تل الزعتر میں فوج سخت کارروائی کر رہی ہے، اس لیے وہاں موجود لوگوں کو فوراً وہاں سے نکل جانا چاہیے۔
غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ روز سے اب تک 47 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ حملے خاص طور پر رفح، غزہ شہر، جبالیا اور نصیرات کیمپ پر مرکوز ہیں۔ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے جنوب میں بھی کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور شہر کے وسط میں کئی علاقوں اور مغربی حصوں میں پیش رفت کی ہے جہاں سے زیادہ تر لوگ مواصی کے علاقے میں منتقل ہو چکے ہیں۔
#عاجل ‼️ تحذير خطير الى كل المتواجدين في مناطق جباليا، معسكر جباليا، البلدة القديمة وأحياء النهضة، الروضة، السلام، النور، التفاح، الدرج وتل الزعتر
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) June 9, 2025
⭕️جيش الدفاع الإسرائيلي يعمل بقوة شديدة في مناطق وجودكم لتدمير قدرات المنظمات الإرهابية
⭕️من أجل أمنكم، اخلوا فوراً الى المآوي… pic.twitter.com/rCsN6D6EFp
دوسری جانب، امدادی جہاز "میڈلین" کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ جو امدادی کشتی غزہ کی طرف جا رہی تھی اور اس میں سرگرم کارکنان بشمول گریٹا تھنبرگ موجود ہیں، اسرائیل نے اسے صبح کے وقت روک لیا ہے۔ کشتی پر 12 سرگرم کارکن تھے جن میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔
"العربیہ" اور "الحدث" کے نمائندوں کے مطابق اسرائیل اس کشتی کو بندرگاہ اسدود پر لے جا کر وہاں سے سواروں کو ان کے اپنے ممالک میں واپس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ کشتی اتوار کو سسلی سے روانہ ہوئی تھی تاکہ غزہ کو مدد پہنچائی جا سکے اور وہاں کئی برس سے عائد محاصرہ ختم کیا جا سکے۔
آزادی کے بحری قافلے کے منتظمین نے "ٹیلی گرام" پر بتایا کہ "میڈلین" کشتی سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور اسرائیلی فوج نے کشتی پر چڑھائی کر کے عملے کو گرفتار کر لیا ہے۔
بحری قافلے کے کارکنان نے پہلے سے ریکارڈ شدہ وڈیوز جاری کیں جن میں گریٹا تھنبرگ نے کہا ہے کہ "اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو ہم کو پانیوں میں روک کر اغوا کر لیا گیا ہے"۔
جرمنی میں قائم بحری قافلے کے میڈیا نمائندہ محمود ابو عودہ نے "فرانس پریس" کو بتایا کہ لگتا ہے کہ کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ "میڈلین" کشتی کو غزہ پہنچنے سے روکا جائے اور کارکنان کو حماس کی حمایت کا پروپیگنڈا پھیلانے والا بتایا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ بحریہ نے اس کشتی کو "ممنوعہ علاقے" کے قریب پہنچنے پر راستہ بدلنے کا حکم دیا تھا اور ایک گھنٹے کے بعد جہاز کو اسرائیلی ساحل پر لے جایا گیا۔
وزارت نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "توقع ہے کہ مسافر اپنے اپنے ممالک واپس چلے جائیں گے"۔ مزید یہ کہ "کشتی پر موجود تھوڑی سی امداد کو حقیقی انسانی واسطوں سے غزہ پہنچایا جائے گا"۔