تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق، امریکہ کو چین سے 'ریئر ارتھ منرلز' ملنے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی ہے کہ امریکہ و چین کے درمیان ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔ جس کے تحت چین امریکہ کو 'ریئر ارتھ منرلز' اور مقناطیسوں کی فراہمی ممکن بنائے گا اور اس کے بدلے میں امریکہ چینی طلبہ کو اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کی سہولت دے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا 'ہم مجموعی طور پر 55 فیصد ٹیرف حاصل کریں گے۔ جبکہ چین 10 فیصد ٹیرف حاصل کرے گا۔ اس طرح ہمارے اور ان کے ملک کے تعلقات شاندار ہیں۔'

امریکی صدر نے اس امر کا اظہار سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹرتھ' پر کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔

اس دوران وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار نے کہا ' امریکہ و چین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں چینی اشیاء پر 55 فیصد تک ٹیرف لگانے کی اجازت ہوگی۔ اس میں 10 فیصد بنیادی نوعیت کے ٹیرف کو 'ریسیپروکل' کرتے ہوئے 20 فیصد ٹیرف کی اجازت دی جائے گی۔ یوں چین امریکی اشیاء پر 10 فیصد ٹیرف حاصل کر سکے گا۔

ٹرمپ نے کہا 'اس معاہدے کا حتمی فیصلہ چینی صدر شی جن پنگ کی منظوری سے ہوگا۔'

ان کا کہنا تھا مکمل مقناطیس کے علاوہ بھی نایاب زمینی معدنیات چین کی طرف سے فراہم کی جائیں گی۔ جبکہ ہم چین کو وہ چیزیں فراہم کریں گے جن پر پہلے اتفاق کیا گیا تھا۔ ان میں ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں چینی طلبہ کے داخلے اور تعلیم کا سلسلہ بھی شامل ہوگا۔

دریں اثناء امریکہ اور چین کے حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کا ایک فریم پر اتفاق ہوگیا ہے کہ وہ تجارت کے شعبے میں اپنی جنگ بندی کو دوبارہ سے بحال کریں گے اور دیرینہ تجارتی تناؤ کا ایک پائیدار حل پیش کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان لندن میں تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ جس کے اختتام پر امریکی وزیر تجارت ہارورڈ لوتنک نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 'اس فریم ورک کے نتیجے میں ہڈیوں پر کچھ گوشت آجائے گا اور ہم جنیوا میں ہونے والی پچھلے ماہ کی پیش رفت کو دو طرفہ بنیادوں پر آگے بڑھا سکیں گے۔

یاد رہے ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی ٹیرف پالیسی کو تبدیل کر کے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جس سے دنیا کی بڑی بندرگاہوں میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور جگہ جگہ نئی الجھنیں پیدا ہوگئیں۔ مختلف ملکوں کی دسیوں کمپنیوں کو دسیوں ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ اشیاء کی لاگت میں اضافے کا رجحان رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں