ایران نے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے اسرائیلی لڑکے کو بطور جاسوس بھرتی کیا : رپورٹ
اسرائیل میں چند روز قبل پولیس اور داخلی انٹیلی جنس ادارے شاباک نے ایک 13 سالہ لڑکے کو ایران کے لیے جاسوسی کرنے اور بعض ذمے داریاں پوری کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے سامنے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حالیہ ہفتوں میں ایرانی ایجنٹوں نے اس لڑکے سے ٹیلیگرام میسیجنگ ایپ کے ذریعے رابطہ کیا تھا اور اسے مختلف کاموں کے عوض رقم کی پیشکش کی گئی۔
آئرن ڈوم کی تصویریں
ان ایجنٹوں کی ہدایات پر لڑکے نے تل ابیب کے علاقے میں دیواروں پر نعرے لکھے۔ اس سے اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام "آئرن ڈوم" کی تصویریں لینے کا بھی کہا گیا، مگر اس نے یہ کام انجام نہیں دیا۔ یہ بات "اسرائیل ہیوم" ویب سائٹ کی رپورٹ میں بتائی گئی۔
پولیس کی جانب سے تفتیش مکمل ہونے پر لڑکے کو رہا کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا، جب کہ تفتیش کی تمام تفصیلات اس کے والدین کو فراہم کی گئیں۔
اسرائیلیوں کی بھرتی کی کوششیں
پولیس اور شاباک نے اس بات کی تصدیق کی کہ غیر ملکی انٹیلی جنس اور "دہشت گرد" تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے اسرائیلی شہریوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ اسرائیل کے اندر "دہشت گرد سرگرمیاں" انجام دی جا سکیں۔
واضح رہے کہ شاباک نے جنوری 2025 میں سال 2024 کی سیکیورٹی صورت حال پر مبنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران نے گزشتہ سال اسرائیل میں 13 جاسوسی نیٹ ورکس قائم کیے، جن میں 37 افراد شامل تھے۔ یہ تعداد سابقہ سالوں کے مقابلے میں 400 فی صد زیادہ ہے۔ شاباک کے بیان کے مطابق ان میں سے اکثریت یہودی اسرائیلی شہریوں کی تھی، جنھیں دولت کی لالچ نے آمادہ کیا، اور وہ سیاسی اور سیکیورٹی شخصیات کے قتل جیسے خطرناک منصوبوں میں مدد دینے کے لیے بھی تیار تھے۔