نیتن یاہو نے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی بائیڈن دور میں کر لی تھی : واشنگٹن پوسٹ

اسرائیلیوں نے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا، جس نے اشارہ دیا کہ ایرانی جوہری سائنس دانوں نے ہتھیار سازی سے متعلق نظریاتی تحقیق دوبارہ شروع کر دی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیل نے 13 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات پر اچانک فوجی حملہ کر دیا تھا۔ امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ اس وقت طے کیا گیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی کو سفارتی طور پر کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

گزشتہ سال موسم خزاں میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی پالیسی کو جنگ کی طرف موڑ دیا تھا، جب اکتوبر میں حزب اللہ لبنان پر حملے کے بعد ایک راکٹ جھڑپ میں ایرانی فضائی دفاع کو تباہ کیا گیا۔ ان واقعات کے بعد نیتن یاہو نے ایک عمومی حکم جاری کیا کہ اسرائیلی افواج ایک بڑے حملے کے لیے تیار رہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس حکام نے درجنوں ایرانی جوہری سائنس دانوں اور فوجی کمانڈروں پر مشتمل اہداف کی فہرستیں تیار کیں۔ اسی دوران، اسرائیلی فضائیہ نے لبنان، شام اور عراق میں ایرانی فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا، تاکہ ایران پر مستقبل میں کی جانے والی فضائی کارروائی کی راہ ہموار ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے صرف فوجی تیاریوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ واشنگٹن پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی، کیونکہ اسرائیل ہمیشہ سے سمجھتا آیا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت اس کے انفرادی حملے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو گی۔ آخرکار، ٹرمپ بھی اس تنازع میں شامل ہو گئے اور امریکی افواج کو، جن میں اسٹریٹجک بم بار طیارے بھی شامل تھے، ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا حکم دے دیا۔

خزاں کے موسم میں اسرائیلی حکام نے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ جاری رکھا، جس کے مطابق ایرانی جوہری سائنس دان ہتھیار سازی سے متعلق نظریاتی تحقیق دوبارہ شروع کر چکے تھے۔ تاہم، امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ ایرانی قیادت نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور یہ اندازہ اسرائیلی حملے کے وقت تک برقرار رہا۔

رپورٹ کے مطابق مارچ تک، اور نیتن یاہو کے ٹرمپ سے ملاقات سے چند ہفتے قبل، اسرائیلی اعلیٰ حکام نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جون تک ایران پر حملہ کر دیں گے، خواہ امریکا ساتھ دے یا نہ دے۔ یہ فیصلہ اس خوف کے تحت کیا گیا کہ ایران اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ قائم کر لے گا۔ جب نیتن یاہو نے 13 جون کو اچانک حملہ کیا، تو وہ کسی نئی انٹیلی جنس اطلاع پر مبنی نہیں تھا، بلکہ یہ حملہ ان منصوبوں پر عمل درآمد تھا جو پہلے سے نہایت احتیاط سے تیار کیے جا چکے تھے۔ ان کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو نقصان پہنچانا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، ایران پر حملے کا فیصلہ موقع اور ضرورت کے امتزاج سے کیا گیا۔ نہ صرف اسرائیل پہلے سے زیادہ تیار تھا، بلکہ ایران اور اس کے اتحادی پہلے سے زیادہ کمزور بھی تھے۔ مزید یہ کہ ایران کے جوہری پروگرام پر نگرانی کی عدم دستیابی نے بھی اسرائیل کو کارروائی پر آمادہ کیا۔ اگرچہ نیتن یاہو کا حملے کا منصوبہ اس وقت مؤخر ہوا جب انھیں واشنگٹن مدعو کیا گیا تاکہ ٹرمپ سے کسی سفارتی حل پر بات چیت ہو سکے، لیکن رپورٹ کے مطابق، ان کا حملے کی طرف رجحان بدستور قائم رہا۔

موسمِ بہار آنے پر اسرائیلی حکام میں یہ تشویش بڑھ گئی کہ ٹرمپ کے ایلچی اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ، بالآخر تہران کو ایٹمی بم حاصل کرنے کی اجازت دے دے گا۔ تاہم ان میں سے ایک عہدے دار کا خیال تھا کہ جب تک واضح ثبوت نہ ہوں کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس وقت تک اچانک حملہ کرنا دانش مندی نہیں ہوگی، خصوصاً جب کہ سفارتی کوششیں ابھی جاری ہوں۔

یاد رہے کہ جب سے ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی، ایران نے یورینیم کی افزودگی کے اپنے ذخائر میں نمایاں اضافہ کیا۔ اگرچہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اس پر بحث کرتی رہی ہیں کہ آیا ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش دوبارہ شروع کر دی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایرانی سائنس دان دوبارہ ان معطل شدہ جوہری ہتھیاروں کی تحقیق پر غور کر رہے ہیں، اور وہ ایسے راستے تلاش کر رہے ہیں جن سے وہ نسبتاً تیزی سے ایک ابتدائی ایٹمی بم تیار کر سکیں ... بشرطیکہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ اس کا فیصلہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں