روسی صدر کا واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کی جگہ نیا مقامی میسجنگ پلیٹ فارم لانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے منگل کے روز ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ریاست کی سرپرستی میں ایک نیا میسجنگ ایپ تیار کیا جائے گا، جو حکومتی خدمات سے بھی مربوط ہوگا۔ یہ اقدام روس کی جانب سے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے غیر ملکی پلیٹ فارمز پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

روسی خبر رساں ادارے رائٹیرز کے مطابق ماسکو کافی عرصے سے اس کوشش میں مصروف ہے کہ وہ "ڈیجیٹل خودمختاری" کے نام پر مقامی سروسز کو فروغ دے۔

یہ کوششیں اس وقت مزید تیز ہو گئیں جب فروری 2022 میں یوکرین میں روسی فوجی کارروائی کے بعد متعدد مغربی کمپنیاں روسی مارکیٹ سے نکل گئیں۔

نئی ایپ اور خدشات

روسی حکام کا کہنا ہے کہ نئی سرکاری میسجنگ ایپ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام سے بہتر خصوصیات کی حامل ہوگی۔ تاہم تنقید کرنے والے اسے شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

ڈیجیٹل حقوق کی ایک معروف روسی تنظیم "انٹرنیٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن" کے ڈائریکٹر میخائل کلیمارِیف نے رواں ماہ کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ روس ممکنہ طور پر واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کی رفتار کم کر دے گا تاکہ صارفین کو نئے ایپ کی طرف راغب کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اپنے مواصلاتی نظام کو بیرونی دباؤ سے آزاد اور مکمل طور پر خودمختار بنانے کے لیے سرگرم نظر آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں