نیویارک کی میئرشپ کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی پر ٹرمپ کی کڑی تنقید
بھارتی نژاد امیدوار کی کامیابی کے بعد ملک ایک بڑے موڑ میں داخل ہو جائے گا : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک شہر کی میئر شپ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے تمہیدی انتخابات میں بھارتی نژاد امیدوار زہران ممدانی کی کامیابی پر ڈیموکریٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور ممدانی کے خلاف سخت اور ذاتی حملے کیے
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ زہران ممدانی "سو فی صد پاگل کمیونسٹ ہے"۔ انھوں نے نہ صرف سیاسی بلکہ ذاتی سطح پر بھی ممدانی کو ہدف بنایا۔ ٹرمپ کے مطابق "وہ دیکھنے میں بھی خوف ناک لگتا ہے، اس کی آواز کرخت ہے، اور وہ زیادہ ذہین بھی نہیں ہے"۔
صدر ٹرمپ نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ زہران ممدانی کو کانگریس ویمن الیگزانڈریا اوکاسیو کورتیز (AOC) کی قیادت میں بننے والے گروہ اور تمام احمقوں کی حمایت حاصل ہے ... مزید یہ کہ سینیٹر چَک شومر "اس کی خوشامد کر رہے ہیں"۔
ٹرمپ نے ممدانی کی جیت کو "ملکی تاریخ کا ایک بڑا لمحہ" قرار دیا، جس سے ان کے بقول امریکہ ایک انتہا پسند بائیں بازو کی طرف بڑھ رہا ہے۔
زہران ممدانی، جو خود کو "ڈیموکریٹک سوشلسٹ" کہتے ہیں، نیویارک کے عوام کو درپیش اہم مسائل جیسے کرایوں پر پابندی، مفت بس سروس، اور بچوں کے لیے ہمہ گیر نگہداشت کی فراہمی جیسے نکات پر اپنی مہم چلا کر نمایاں ہوئے۔
ان کی فتح کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر روایتی دھڑے اور ابھرتے ہوئے ترقی پسند دھڑے کے درمیان جاری کشمکش کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایک اور طنزیہ پوسٹ میں مزید کہا کہ ڈیموکریٹس کو چاہیے کہ وہ کسی "کم ذہانت والی امیدوار" کو، جیسے کہ کانگریس وومن یاسمین کروکِٹ، کو صدارتی امیدوار بنائیں، اور AOC کے گروہ "AOC+3" کو اگلی انتظامیہ میں اہم عہدے دے ڈالیں ... جیسا کہ نائب صدر اور تین وزارتی عہدے۔
ٹرمپ نے یہ پوسٹ ان الفاظ کے ساتھ ختم کی "امریکہ واقعی تباہ ہو جائے گا" اگر ان لوگوں کو قیادت ملی، خاص طور پر "نیویارک شہر کے مستقبل کے کمیونسٹ میئر زہران ممدانی" کے ساتھ!
یاد رہے کہ کانگریس وومن یاسمین کروکِٹ، جو ڈیلاس کی نمائندہ ہیں، نے 2024 میں صدارتی یا نائب صدارت کی کسی بھی دوڑ میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔ موجودہ طور پر وہ پارٹی کے اندر ایک ابھرتی ہوئی سیاسی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں، اور حالیہ دنوں میں وہ ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی میں ایک قائدانہ منصب کے لیے کوشاں تھیں، جس سے بعد میں انھوں نے دست برداری اختیار کر لی تھی۔
یاسمین کروکِٹ سابق صدر ٹرمپ پر سخت تنقید اور سوشل میڈیا پر اپنی جاندار موجودگی کی وجہ سے معروف ہیں۔