ایران چند 'مہینوں میں' دوبارہ یورینیم افزودہ کر سکتا ہے: سربراہ آئی اے ای اے

ایران کا جوہری پروگرام "عشروں" پیچھے چلا گیا: ٹرمپ کا متضاد اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سی بی ایس نیوز نے ہفتے کے روز کہا کہ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر چند مہینوں میں افزودہ یورینیم تیار کرنا شروع کر دے گا حالانکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے اس کی متعدد جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیل کے بعد امریکہ نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی حد اگرچہ "سنگین" ہے لیکن تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام "عشروں" پیچھے چلا گیا۔

لیکن بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل گروسی نے کہا، "کچھ بدستور باقی ہے۔"

ہفتے کو جاری کردہ انٹرویو کی ایک تحریری نقل کے مطابق گروسی نے جمعہ کو کہا، "آپ جانتے ہیں، چند مہینوں یا اس سے بھی کم وقت میں سنٹری فیوجز گھومنا اور افزودہ یورینیم تیار کرنا شروع کر سکتے ہیں۔"

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران حملوں سے قبل انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں سے کچھ یا تمام کو منتقل کرنے میں کامیاب رہا تھا جو اندازاً 408.6 کلو (900 پاؤنڈ) ہے۔

مذکورہ یورینیم 60 فیصد تک افزودہ ہے جو شہری استعمال کی سطح سے زیادہ لیکن ہتھیاروں کے درجے سے بدستور کم ہے۔ اس مواد کو اگر مزید بہتر کر لیا جائے تو نظریاتی طور پر نو سے زیادہ جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہو گا۔

گروسی نے سی بی ایس کے انٹرویو میں اعتراف کیا: "ہمیں نہیں معلوم کہ یہ مواد کہاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے شاید کچھ حملوں میں تباہ ہو گیا ہو گا لیکن کچھ کو شاید انہوں نے منتقل کر لیا ہو۔"

فی الحال ایرانی قانون سازوں نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا اور تہران نے گروسی کی جانب سے تباہ شدہ جوہری مقامات خاص طور پر یورینیم افزودگی کی اہم سہولت فردو کے دورے کی درخواست مسترد کر دی۔

گروسی نے کہا، "ہمیں یہ معلوم کرنے کی پوزیشن میں ہونا چاہیے کہ وہاں کیا ہے، یہ کہاں ہے اور کیا ہوا"۔

فاکس نیوز کے "سنڈے مارننگ فیوچرز" پروگرام کے ساتھ ایک الگ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں یورینیم کا ذخیرہ منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

انٹرویو کے اقتباسات کے مطابق انہوں نے کہا، "منتقلی کرنا بہت مشکل کام ہے اور ہم نے انہیں زیادہ وقت نہیں دیا۔ انہوں نے کچھ بھی منتقل نہیں کیا۔"

گروسی اور ان کی ایجنسی کی "لگن اور پیشہ ورانہ مہارت" کی تعریف کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز "ایران میں آئی اے ای اے کی اہم تصدیق اور نگرانی کی کوششوں" کے لیے واشنگٹن کی حمایت پر زور دیا۔

گروسی کا مکمل انٹرویو اتوار کو "Face the Nation with Margaret Brennan" پروگرام میں نشر ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size