اسرائیلی وزیر خارجہ کا ایرانی جوہری خطرے عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

گیدعون ساعر نے ایرانی بیلسٹک حملوں کو جنگی جرم قرار دیا، امریکہ کی فوجی کارروائی کے بعد حالات سنگین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون ساعر نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

اتوار کے روز جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر دوبرنڈٹ کے ہمراہ تل ابیب کے نواحی علاقے بات یام میں ایرانی میزائل حملے کے مقام کے دورے کے دوران ساعر نے کہا کہ "ایرانی نظام کی وحشیانہ حکمت عملی کے تحت شہری آبادی پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ ایک کھلی جنگی جارحیت ہے، جس کا اعتراف ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے حالیہ دنوں میں خود بھی کیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی نگرانی ختم کرنا عالمی برادری کی کھلی توہین اور فریب دہی ہے۔ ان کے بہ قول "یہ وقت ہے کہ دنیا ایرانی جوہری خطرے سے سنجیدگی سے نمٹے"۔

جرمن وزیر داخلہ کی حمایت

الیگزینڈر دوبرنڈٹ نے کہا کہ "جو شخص ایران سے داغے گئے میزائلوں کی تباہ کاری دیکھتا ہے، وہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر ایران کے پاس جوہری بم ہوتا تو وہ اسرائیل کے خلاف ضرور استعمال کرتا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران برسوں سے اسرائیل کے شمال، جنوب اور مشرق میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے ذریعے پورے خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ "اسی لیے ہم ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔"

بارہ دن کی بے مثال جھڑپیں

خیال رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ بارہ روز کے دوران شدید اور بے مثال جھڑپیں ہوئیں، جن میں امریکہ بھی مداخلت پر مجبور ہوا۔ ہفتے کی شب امریکہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات—فوردو، نطنز اور اصفہان—پر فضائی حملے کیے۔

اس کے ردعمل میں ایران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حیران کن طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

ایرانی تنصیبات کو بھاری نقصان

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو تصدیق کی کہ جنگ کے بارہ دنوں میں ان کے ملک کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام "عشروں پیچھے چلا گیا ہے۔"

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں نے ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جس سے تہران کی قریبی مدت میں جوہری بم کی تیاری کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، ان اہم تنصیبات کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں