بنگلہ دیش میں پچھلے سال اقتدار چھوڑ کر بھارت بھاگ جانے والی وزیر اعظم کو بنگلہ دیشی عدالت نے بین الاقوامی جرائم سے متعلق ایک ٹربیونل کے زیر انتظام بدھ کے روز چھ ماہ کے لیے سزا سنائی ہے۔ کیونکہ انہوں نے عدالت کے احکامات نہ مان کر عدالت کی توہین کی ہے۔
یاد رہے یہ سزا ان کے اصل جرم میں نہیں بلکہ توہین عدالت میں ہے۔
حسینہ واجد جنہوں نے اپنے طویل دور حکومت میں اطنے مخالفین کو اندھا دھند پھانسیاں دیں اور جیلوں میں بند کیا خود بھی انسانیت کے خلاف جرائم میں کئی طرح کے مقدمات میں مطلوب ہیں۔ تاہم وہ 5 اگست 2023 سے بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
عدالتی چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے بتایا ہے کہ حسینہ واجد کے علاوہ شکیل احمد بلبل لیڈر عوامی لیگ اور عوامی لیگ کے طلبہ ونگ کے سربراہ کو بھی دو ماہ کی سزائے قید سنائی گئی ہے۔
تین رکنی انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل کے سربراہ جسٹس غلام مرتضیٰ ہیں۔ جنہوں نے یہ فیصلہ سنایا اور ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ اس سزا کا اطلاق اس دن سے ہوگا جب وہ اپنے آپ کو قانون کے سامنے سرنڈر کر کے گرفتاری پیش کریں گے۔
بعد ازاں عدالت میں تحقیقاتی ادارے کی طرف سے ایک آڈیو پیش کی گئی اور آواز کی تصدیق کی گئی کہ یہ ملزمان کی آواز ہے۔
یہ 'آئی سی ٹی' حسینہ واجد نے خود اپنے مخالفین کے خلاف 2010 میں قائم کیا تھا۔ تاکہ 1971 میں ان کی جماعت عوامی لیگ کے مخالف اور پاکستان کی حامی شخصیات اور لیڈروں کو سزا دلوا سکیں۔
حسینہ واجد کی عوامی لیگ پارٹی کالعدم قرار دی جا چکی ہے اور جماعت کے عہدیداروں کو عدالت میں مقدمات کا سامنا ہے۔
حسینہ واجد کے حامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سزا سیاسی وجوہ کی بنیاد پر ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں۔
-
بنگلادیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو توہین عدالت پر چھ ماہ قید کی سزا
بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائم ٹر بیونل نے شیخ حسینہ واجد کو توہین عدالت پر چھ ماہ ...
بين الاقوامى -
ایرانی حملوں پرٹرمپ کےخلاف فوجداری مقدمہ درج کرنےکی درخواست:پاکستان کی عدالت نے سماعت کی
درخواست قابلِ سماعت ہے: درخواست گذار کا اصرار
پاكستان -
پاکستان میں مون سون بارشوں سے تباہی، ایک ہفتے میں 64 افراد جاں بحق
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں، بچوں کی بڑی تعداد بھی متاثر، محکمہ موسمیات ...
پاكستان