برطانیہ کی اسرائیل کے لیے حمایت کے خلاف احتجاج میں گذشتہ ماہ وسطی انگلینڈ میں ایک فوجی فضائی مرکز پر حملہ کرنے اور دو طیاروں کو نقصان پہنچانے کے بعد چار فلسطینی حامی کارکنان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی پولیس نے کہا کہ یہ الزامات برطانیہ کے تحفظ یا مفادات کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے دانستہ ممنوعہ جگہ داخل ہونے اور مجرمانہ نقصان پہنچانے کی سازش کے لیے تھے۔
بائیس سے 35 سال کے درمیان عمر والے چاروں افراد زیرِ حراست ہیں اور انہیں جمعرات کو لندن کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔
پولیس نے کہا کہ وہ عدالت میں ان جرائم کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کے ثبوت پیش کریں گے۔
مہم کار گروپ فلسطین ایکشن نے کہا ہے کہ 20 جون کو ہونے والے اس واقعے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا جب وسطی انگلینڈ میں آکسفورڈ شائر میں فضائی مرکز میں نقب لگائی گئی اور ایندھن بھرنے اور نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے دو طیاروں پر سرخ پینٹ پھیر دیا گیا تھا۔
برطانوی قانون سازوں نے بدھ کو فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ گروپ نے اس فیصلے کو "طاقت کا غلط استعمال" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا، ملزمان نے برائز نورٹن رائل ایئر فورس کے فضائی مرکز پر دو طیاروں کو سات ملین پاؤنڈ (9.55 ملین ڈالر) کا نقصان پہنچایا۔
فلسطین ایکشن نے معمول کے مطابق برطانیہ میں اسرائیل سے روابط رکھنے والی کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں اسرائیلی دفاعی فرم Elbit Systems بھی شامل ہے۔