ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا کہ تہران نے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکی حکام سے کسی ملاقات کی درخواست نہیں کی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا تھا کہ وہ ایرانی سفارت کاروں سے اگلے ہفتے یا اس سے زیادہ وقت میں ملاقات کریں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ ان کے ملک کو امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے بشرطیکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہو۔ پزشکیان نے پیر کو نشر ہونے والے امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں دیکھ رہے۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک شرط ہے، ہم دوبارہ امریکہ پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں؟ ہم مذاکرات کی طرف واپس آتے ہیں لیکن ہم ان مذاکرات کے درمیان کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ اسرائیل کو ہم پر دوبارہ حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟
12 روزہ جنگ
واضح رہے 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف بمباری کی مہم شروع کردی تھی جس میں ایران کے سینئر فوجی کمانڈر اور جوہری سائنسدان مارے گئے تھے۔ ایران نے جواب میں اسرائیل پر ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔ پھر امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، اصفہان اور نظنز پر بمباری کی اور پھر 24 جون کو جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا۔