جنگ بندی شرائط منوانے کے لیے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جہاں گذشتہ چند دنوں کے مقابلے میں حالیہ پیش قدمی سب سے زیادہ شدید کارروائی جا ری ہے۔ جنوبی غزہ کے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں کارروائیاں خاص طور پر تیز کر دی گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب عسکری دباؤ بڑھا کر جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے عمل کو تیز کرنا چاہتا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے نئی عسکری کمک تعینات کی ہے، جنہوں نے مختلف اہداف پر بمباری شروع کر دی ہے۔

غزہ میں 8 جولائی کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی
غزہ میں 8 جولائی کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی

دوسری جانب شمالی غزہ میں بیت حانون کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے شدید گولہ باری کی۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک "سنگین سکیورٹی واقعے" کے بعد کی گئی، جس میں فلسطینی گروہوں نے ایک اسرائیلی یونٹ پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے میں متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، جنہیں بعد ازاں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لاشوں اور زخمیوں کو اسرائیل منتقل کیا گیا۔

فضائی اور زمینی حملوں میں شدت

غزہ شہر کے مشرقی محلوں بالخصوص الزیتون اور الشجاعیہ میں اسرائیلی فضائیہ اور توپ خانہ نے حملوں کی شدت بڑھا دی ہے۔ ان کارروائیوں میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جب کہ مسلسل بمباری کے لیے طیاروں اور توپوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملوں کا نشانہ بے گھر افراد کے کیمپ اور وہ سکول بھی بنے جو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ ان حملوں میں کئی عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

یہ کارروائیاں اس وقت ہو رہی ہیں جب غزہ میں انسانی صورتحال تباہ کن حد تک بگڑ چکی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ طبی اور امدادی خدمات کا نظام مکمل طور پر بیٹھنے کے قریب ہے۔ خوراک، پانی اور دواؤں کی شدید قلت ہے، جب کہ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

دوحہ میں مذاکرات جاری، پیش رفت غیر یقینی

ان حالات میں قطری دارالحکومت دوحہ میں مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ اور یرغمالیوں کا مسئلہ حل کرنا ہے۔

تاہم منگل کو واشنگٹن میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ موجود ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ اس ہفتے معاہدہ طے پانے کے امکانات یقینی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ اختلافات اب بھی برقرار ہیں اور معاہدے تک پہنچنے میں توقع سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

دوحہ میں جاری مذاکرات میں 60 دن کی عارضی جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور بعد ازاں جنگ کے مستقل خاتمے کی بات کی جا رہی ہے۔

ماضی میں بھی جنگ بندی کے لیے کوششیں ہوئیں، لیکن طویل تعطل کے بعد اب نئے تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کم از کم 60 دن کی جنگ بندی، 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی بہ تدریج رہائی اور ان کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ اس کے بدلے میں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

جنگ بندی کے دوران دونوں فریق مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں