شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ’ تھامس براك‘ نے اپنے ایک حالیہ بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی باتوں کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور شام لبنان کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔
ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری پیغام میں براك نے لکھاکہ "میرے تبصرے دراصل شام کی جانب سے حالیہ برسوں میں کی جانے والی بڑی پیش رفت کو سراہنے کے لیے تھے، نہ کہ لبنان کے لیے کسی خطرے کی نشاندہی کے لی تھے"۔
My comments yesterday praised Syria’s impressive strides, not a threat to Lebanon. I observed the reality that Syria is moving at light speed to seize the historic opportunity presented by @POTUS’s lifting of sanctions: investment from Türkiye and the Gulf, diplomatic outreach to…
— Ambassador Tom Barrack (@USAMBTurkiye) July 12, 2025
انہوں نے واضح کیا کہ شام امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد، تیزی سے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
براك کا مزید کہنا تھاکہ "میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ شام کی قیادت کا مقصد صرف لبنان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ خوشحالی ہے۔ امریکہ دونوں خودمختار ہمسایہ ممالک کے درمیان امن، ترقی اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی حمایت کرتا ہے"۔
"وجودی خطرے" والے بیان پر وضاحت
یہ وضاحت ایسے وقت آئی ہے جب تھامس براك نے حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "لبنان کو ایک وجودی خطرے" کا سامنا ہو سکتا ہے اور امکان ہے کہ وہ دوبارہ "بلادِ شام" کا حصہ بن جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شام بین الاقوامی منظرنامے پر دوبارہ ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
براك نے حزب اللہ کے اسلحے کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کے اس بیان نے لبنان میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بہت سے سیاسی حلقوں نے شام کی بڑھتی ہوئی سیاسی موجودگی اور حزب اللہ کے مسلح کردار کو لبنان کی خودمختاری کے لیے چیلنج قرار دیا ہے۔